تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 2 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 2

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ یہ زمانہ مسلمانان ہند کے لئے گوناگوں مصائب سے لبریز مسلمانان ہند کی قابل رحم حالت تھا۔کشمیر اور صوبہ سرحد میں مسلمانوں پر جبرو تشدد کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اس کے ساتھ ہی کرنال حصار اور ریاست الور کے مسلمانوں کو سخت دق کیا جا رہا تھا۔حتی کہ پنجاب مسلم اکثریت کا صوبہ ہونے کے باوجود ہندوؤں اور سکھوں کی سازشوں کی آماجگاہ بنا ہو ا تھا۔اب سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے انگلستان چلے جانے اور وہاں بود و باش اختیار کر لینے کے بعد مسلمانان ہند کا سیاسی قافلہ انتشار تشتت اور پراگندگی کا شکار ہو رہا تھا اور مسلمان لا مرکزیت اور فقدان قیادت کے نتیجہ میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو چکے تھے۔چنانچہ تازیانه ریویو" (۳۰/ نومبر ۱۹۳۲ء) نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ: مسلمان کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے تاوقتیکہ ان میں کوئی لیڈر پیدا نہ ہو گا۔گاندھی نہ ہو تو مولوی ہی ہو اور اگر وہ نہ ہو تو پر مانند ہی سہی۔لیکن یہاں تو ہندو لیڈروں کے مقابلہ میں ہم کسی ایک مسلمان کو بھی پیش نہیں کر سکتے "۔جماعت احمدیہ کی خصوصی شان اپنوں اور غیروں کی نظر میں بایں ہمہ مایوسی اور ناامیدی کے اس دردناک ماحول میں نظریں بیتابانہ اور مضطربانہ طور پر قادیان کی طرف اٹھتی تھیں اور وہاں روشنی کی ایک امید افزا کرن موجود پاتی تھیں۔چنانچہ ذیل میں بعض اہم آراء و افکار درج کی جاتی ہیں جن سے جماعت احمدیہ کی اس خصوصی شان کا اندازہ کرنے میں آسانی ہوگی۔مراد آباد کے ایک مشہور مسلمان مصنف جناب اشفاق حسین صاحب مختار (سابق میونسپل کمشنر مراد آباد) نے اپنے ایک کتابچہ خون کے آنسو " میں لکھا۔جماعت اور بھیٹر کا فرق احمدی جماعت ہیں) ہم سات کروڑ تو ہیں لیکن ہم سات کروڑ آدمیوں کی بھیڑ ہیں۔ہم اپنے آپ کو جماعت نہیں کہہ سکتے۔البتہ احمدی صاحبان اپنے آپ کو جماعت کہہ سکتے ہیں کیونکہ ان کی تنظیم اچھی ہے۔۔۔مشہور عربی مقولہ ہے ید الله علی الجماعة یعنی اللہ کا ہاتھ جماعت کے اوپر ہوتا ہے یعنی اللہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو تنظیم کر کے اپنی جماعت بنا لیتے ہیں۔خدا بھیڑ کی مدد نہیں کرتا۔چونکہ ہم بھیٹر ہیں اس لئے خدا نے اپنا مددگار ہاتھ ہمارے اوپر سے اٹھا لیا۔تنظیم اگر ہو تو تھوڑی سی جماعت بھی دنیا میں تہلکہ ڈال دیتی ہے اور اگر تنظیم نہ ہو تو سات کروڑ تو کیا بلکہ ستر کروڑ بھی ذلت کی زندگی بسر کرتے ہیں "