تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 189 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 189

۱۸۹ پر بہت بڑا اجتماع تھا جو چلچلاتی دھوپ میں کھڑا تھا۔خاندان مسیح موعود کے افراد نیز حضرت ام المؤمنین اور حضرت اقدس خلیفتہ المسیح بنفس نفیس اپنے پیارے لخت جگر اور اپنے دوسرے عزیز کو خداحافظ کہنے کے لئے موجود تھے۔صاحبزادگان نے جن کے سینے ہاروں سے مزین تھے اسٹیشن کے بیرونی بر آمدے میں سینکٹروں افراد سے مصافحہ کیا اور بعض بعض سے معانقہ بھی۔گاڑی روانہ ہونے سے پندرہ منٹ پہلے حضور نے دونوں صاحبزادوں کو پاس کھڑا کر کے ایک لبی دعا فرمائی دعا میں اکثر لوگوں کی آنکھیں پر نم تھیں خود حضرت خلیفتہ المسیح کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا گئیں۔دعا کے بعد حضور نے اپنے فرزند دلبند کو اپنے سینہ سے لگایا اور پہلے دائیں طرف اور پھر یا ئیں طرف معانقہ فرمایا۔معانقہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے حضور کے دست مبارک کو چوما۔اس کے بعد حضور نے صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب سے معانقہ فرمایا۔اور میرزا سعید احمد صاحب نے بھی۔حضور کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔گاڑی اللہ اکبر کے نعروں کے درمیان روانہ ہوئی تو بہت سے احباب فرط اشتیاق سے گاڑی کے ساتھ ساتھ دور تک دوڑتے چلے گئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے ، حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب بی۔اے بی ٹی، میرزا گل محمد صاحب رئیں اور دوسرے بہت سے دوست مشایعت کے لئے امرت سر تک تشریف لے گئے۔امرت سر سے لدھیانہ تک امرتسر سے صاجزادگان فرنٹیر میل " میں عازم بمبئی ہوئے۔لدھیانہ میں قریباً آدھی رات کے وقت گاڑی پہنچی اسٹیشن پر كيدا احباب لدھیانہ کے علاوہ مالیر کوٹلہ سے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ (مع نواب مسعود احمد خان صاحب) بھی تشریف لائی ہوئی تھیں اور ویٹنگ روم میں موجود تھیں۔گاڑی کے پہنچتے ہی سید محمد عبد الرحیم صاحب سیکرٹری انجمن نے معانقہ کیا اور ہار پہنائے۔اسی طرح حضرت سیدہ موصوفہ نے بھی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب کے گلے میں ہار ڈالے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی حضرت سید عنات علی شاہ صاحب نے مجمع سمیت دعا فرمائی۔اور سب نے نیک تمناؤں کے ساتھ اپنے محبوب امام کے جگر گوشہ اور حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کے چشم و چراغ کو خدا حافظ کہا۔