تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 188 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 188

تاریخ احمدیت۔جلد ۷ JAA حاصل کر سکتے ہو۔وہاں کی ہر چیز آسانی سے یہاں مل سکتی ہے تم کو میں اس لئے وہاں بھجوا رہا ہوں کہ تم وہاں کے لوگوں کو کچھ سکھاؤ۔اگر تم کوئی اچھی بات ان میں دیکھو تو وہ تم کو مرعوب نہ کرے کیونکہ اگر وہ مسلمانوں میں موجود نہیں تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ وہ اسلام میں موجود نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسے بھلا دیا ہے رسول کریم و فرماتے ہیں۔كلمة الحكمة ضالة المؤمن اخذها حيث وجدها۔آپ کے اس قول میں (فداہ نفسی و روحی) اس طرف اشارہ ہے کہ اسلام کے باہر کوئی اچھی شے نہیں اگر کوئی ایسی شئی نظر آئے تو یا تو ہمارا خیال غلط ہو گا اور وہ شے اچھی نہیں بلکہ بری ہو گی یا پھر اگر وہ اچھی چیز ہوگی تو وہ ضرور قرآن کریم سے ہی لی ہوئی ہوگی اور مومن ہی کی گم گشتہ متاع ہوگی۔جو کچھ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔میں اس کا ایک زندہ ثبوت ہوں۔میں گواہ ہوں راستبازوں کے بادشاہ کی بات کی صداقت کا۔پس ایسا نہ ہو کہ تم یورپ سے مرعوب ہو۔خدا تعالٰی نے جو ہمیں خزانہ دیا ہے وہ یورپ کے پاس نہیں اور جو ہمیں طاقت دی ہے وہ اسے حاصل نہیں۔تم ایک اسلام کے سپاہی کی طرح جاؤ اور وہ سب کچھ اکٹھا کرو جو اسلام کی خدمت کے لئے مفید ہو اور اس سب کچھ کو لغو سمجھ کر چھوڑ دو جو اسلام کے خلاف ہے کیونکہ وہ ہرگز کوئی قیمت نہیں رکھتا۔تم اسے زہر سمجھ کر اس کی شدت کا مطالعہ کرو لیکن اسے کھاؤ نہیں کہ زہر کھانے والا انسان اپنے آپ کو خود ہلاک کرتا ہے اور لوگوں کی ہنسی اور تمسخر کا مستحق ہوتا ہے۔آخر میں حضور نے اپنی ہدایات اور نصیحتوں کا خلاصہ ان الفاظ میں تحریر فرمایا۔" پھر سب نصیحتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے بنو خدا کے۔۔۔۔ہم سب فانی ہیں اور وہی زندہ اور حاصل کرنے کے قابل ہے اس کا چہرہ دنیا کو دکھانے کی کوشش کرو۔اپنی زندگی کو اسی کے لئے کر دو ہر سانس اس کے لئے ہو وہی مقصود ہو ، وہی مطلوب ہو ، وہی محبوب ہو۔جب تک اس کا نام دنیا میں روشن نہ ہو تم کو آرام نہ آئے تم چین سے نہ بیٹھو"۔سفر انگلستان کی غرض وغایت خود سید نا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی کے الفاظ مبارک میں بیان کرنے کے بعد اب ہم اس بابرکت سفر کے واقعات کی طرف آتے ہیں۔قادیان سے روانگی ستمبر ۱۹۳۴ء کا دن حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب ( ابن حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب) کی روانگی کے لئے مقرر تھا۔سہ پہر کے تین بجے کے بعد گاڑی کو قادیان کے اسٹیشن سے چلنا تھا۔قادیان کے احباب - بوڑھے۔جوان بچے اور مستورات ظہر کی نماز کے بعد ہی اسٹیشن کی طرف کھنچے چلے جا رہے تھے۔احمدی دکانداروں نے اس تقریب الوداع میں شامل ہونے کے لئے دکانیں بند کر دی