تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 190 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 190

تاریخ احمدیت جلد ۶ حضرت سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کی دعائیہ حضرت سیدہ نواب مبارکه بیگم صاحبه نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد احب ایدہ اللہ تعالی کو لدھیانہ اسٹیشن پر چند اہم نصائح اور ایک دعائیہ نظم لکھ کر عنایت فرمائی اس پاکیزہ اور موثر نظم کے اشعار درج ذیل ہیں۔جاتے ہو مری جان خدا حافظ و ناصر اللہ نگہبان خدا حافظ ہر گام ہمراہ رہے نصرت باری ہر علم لو و ناصر و ہر آن خدا حافظ و ناصر والی بنو امصار علوم دو جہاں کے ائے یوسف کنعان" خدا حافظ و ناصر سے حاصل کرد عرفان الی بڑھتا رہے ایمان خدا حافظ و ناصر پہرہ ہو فرشتوں کا قریب آنے نہ پائے ڈرتا رہے شیطان خدا حافظ و ناصر ہر بحر کے غواص بنو لیک به این شرط بھیگے نہیں وامان خدا حافظ و ناصر سرپاک ہو اغیار سے دل پاک نظر پاک اے بندہ سبحان خدا حافظ و ناصر محبوب حقیقی کی "امانت" سے خبردار اے حافظ قرآن خدا حافظ و ناصر الملدنا فرنٹیئر میل دوسرے دن ۷ / ستمبر بروز جمعہ صبح کے وقت دہلی پہنچی۔لدھیانہ سے بمبئی تک جہاں علی گڑھ بریلی اور شاہ جہانپور تک کے احباب ملاقات کے لئے حاضر تھے گاڑی قریباً ایک گھنٹہ تک ٹھری۔روانگی سے قبل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے احباب جماعت سمیت دعا فرمائی۔٨ / ستمبر کی صبح کو یہ مقدس قافلہ " بیلارڈ پیر " بمبئی کی بندرگاہ کا ایک پلیٹ فارم پہنچا۔جہاں رنپورہ جہاز پہلے سے لنگر انداز تھا۔بمبئی کی جماعت نے اخلاص و محبت کے ساتھ استقبال کیا۔استقبال کرنے والوں میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الکبیر اور سید رسول شاہ صاحب کلیانی بھی تھے۔صاحبزادگان نے حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحب کے ہاں ناشتہ کیا۔اس وقت حضرت عرفانی الکبیر بھی ساتھ تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب سے احمدی احباب نے سمندر پار جانا شروع کیا تھا حضرت سیٹھ صاحب مہمان نوازی کے فرائض بجالا رہے تھے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی جب حج اور مصر کے سفر پر تشریف لے گئے تو آپ کو شرف میزبانی عطا ہوا۔پھر اس سفر میں حضرت میر ناصر نواب صاحب بھی آپ کے یہاں مہمان رہے۔آپ کے بعد حضرت مرزا سلطان احمد صاحب بھی (یعنی صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب کے دادا) مہمان رہ چکے تھے اور اسی طرح باہر سے آنے جانے والے مبلغین کی خاطر و تواضع کا سلسلہ اب تک برابر جاری تھا۔