تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 175 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 175

احمدیت۔جلد ۶ 140 اتنا وسیع تھا کہ ہر طرف شور محشر بپا ہو گیا جس کی کسی حد تک تفصیل اس زمانے کے اخبارات مثلاً "الجمعیه" (دہلی) "مدینہ" (بجنور) اخبار "حقیقت" (لکھنو) " سرچ لائٹ" (پٹنہ) "اتحاد" (پٹنہ) ( سرفراز) لکھنو " اہل حدیث" (امرتسر) "سیاست" (لاہور) "زمیندار" (لاہور) "انقلاب" (لاہور) ” سول اینڈ ملٹری گزٹ" (لاہور) ( سیسمین) "ملاپ" (لاہور) "پر تاپ " لاہور اور " پر کاش" (لاہور) میں مل سکتی ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کار ساله حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رویا میں چونکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے اشارہ کرنے کا ذکر موجود تھا اور خدائی تصرف کے تحت سب سے پہلے ان ہی کا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ یہ وہی موعودہ زلزلہ ہے اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان سے فرمایا۔کہ وہ اس تازہ نشان پر مفصل رسالہ لکھیں کیونکہ انہی کے مونہہ سے یہ الفاظ نکلوائے گئے ہیں۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک اور تازہ نشان " کے عنوان سے ایک اہم رسالہ تصنیف فرمایا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے الہامات و کشوف کی روشنی میں اس زلزلہ کی پانچ ایسی واضح علامتیں بیان کیں جن سے اہل علم پر پوری طرح کھل گیا کہ یہ زلزلہ خدا کے زبر دست نشانوں میں سے ایک تازہ نشان ہے۔حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس رسالہ کے آخر میں مصیبت زدگان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نہایت پر خلوص اور محبت سے لبریز الفاظ میں لکھا۔ہم دنیا کی مصیبت پر خوش نہیں ہیں اور خدا جانتا ہے کہ اس زلزلہ کی تباہ کاری پر ہمارے دلوں میں ہمدردی اور مواخات کے کیا کیا جذبات اٹھتے ہیں ہم ہر اس شخص سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں جسے اس زلزلہ میں کسی قسم کا نقصان پہنچا ہے ہم ہر مالک مکان کے ساتھ اس کے مکان کے گرنے پر۔ہر باپ کے ساتھ اس کے بیٹے کے مرنے پر ہر خاوند کے ساتھ اس کی بیوی کے فوت ہونے پر۔ہر بھائی کے ساتھ اس کے بھائی کے جدا ہونے پر۔ہر بیٹے کے ساتھ اس کے باپ کے رخصت ہونے پر۔ہر بیوی کے ساتھ اس کے خاوند کے گزر جانے پر۔ہر دوست کے ساتھ اس کے دوست کے بچھڑنے پر بچی اور مخلصانہ ہمدردی رکھتے ہیں۔اور دوسروں سے بڑھ کر اپنی ہمدردی کا عملی ثبوت دینے کے لئے تیار ہیں۔اور اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں مگر اس سے بھی بڑھ کر ہمارا یہ فرض ہے کہ جب خدائے ذوالجلال کا کوئی نشان پورا ہو تا دیکھیں تو اسے دنیا کے سامنے پیش کریں۔اور لوگوں کو بتائیں کہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں اس طرح پوری ہوا کرتی ہیں۔تاکہ وہ خدا کو پہچانیں اور اس کے بھیجے ہوئے مامور د مرسل کو