تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 174
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۱۷۴ ہمارے خلاف پیدا کی جارہی ہے وہ گو بعض لحاظ سے ہمارے لئے مضر ہو مگر تبلیغی دروازہ خدا تعالٰی نے ہمارے لئے بند نہیں ہونے دیا۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ اس موقعہ پر ہماری جماعت کو مختلف جماعتوں کی طرف سے مدد ملی جہاں غیر احمدی شرفاء نے تعاون کیا وہاں بعض ذمہ دار افسران کا رویہ بھی بہت ہمدردانہ رہا سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس جو ہندوستانی مسلمان ہیں۔ان کا رویہ نہایت ہی قابل تعریف تھا۔وہ ٹی پارٹی کے موقعہ پر مجھے بھی ملے۔ان کا طریق عمل ایسا اعلیٰ تھا جس میں قطعاً تعصب کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا تھا۔مگر شائد افسروں کے متعلق کوئی کہے کہ دیانتدار افسرانصاف کے لئے کوشش کیا ہی کرتے ہیں۔اس لئے میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ دوسرے لوگوں میں بھی ہمدردی اور تعاون کا پہلو نمایاں طور پر پایا جاتا تھا۔بعض میونسپل کمیٹی کے افسروں نے کوشش کر کے ہمارے لئے مفت چیزیں مہیا کیں چنانچہ میز اور کرسیوں کے گڑے بھروا کر مفت ہمارے جلسہ گاہ میں بھیج دیئے۔اسی طرح ایک سکھ صاحب کے سائبان تھے۔انہوں نے نصف کرایہ لیا۔حالانکہ ان کو یہ دھمکی دی گئی تھی کہ ہم سائبانوں کو جلا دیں گے۔وہ سامان ۱۶-۱۵ ہزار کی مالیت کا تھا۔اور ایک تاجر کے لئے اس سے زیادہ خطرہ کی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ سامان کو تلف کر دینے کی اسے دھمکی دی جائے مگر باوجود اس کے انہوں نے نصف کرایہ وصول کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شریف طبقہ ہمارے متعلق اپنے دلوں میں ہمدردی کے جذبات موجزن پاتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ جاہلوں کی مخالفت ذاتی اغراض کی بناء پر ہے حقیقتاً یہ سلسلہ ملک و ملت کا خادم ہے لیکن جہاں اس نتیجہ کے نکالنے سے ہمیں خوشی ہوتی ہے۔وہاں ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے "۔ہندوستان کے شمال مشرق کا تباہ ۱۲۰ اپریل ۱۹۰۷ء کو سید نا حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کو ہندوستان کے شمال مشرق کن زلزلہ خدا کے زبردست میں آنے والے ایک تباہ کن زلزلہ کا نظارہ دکھایا نشانوں میں سے ایک نشان گیا۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔" رویا میں دیکھا کہ بشیر احمد کھڑا ہے وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا"۔چنانچہ اس پیشگوئی کے عین مطابق ۱۵ جنوری ۱۹۳۴ء کو ایک قیامت خیز زلزلہ آیا جس نے بنگال سے لے کر پنجاب تک تباہی مچادی بے شمار عمارتیں گر گئیں زلزلہ سے زمین پھٹ گئی طغیانی سے آبادیاں غرق ہو گئیں اور میں ہزار انسانوں کی جانیں ضائع ہو گئیں۔زلزلہ کی ہلاکت آفرینیوں کا اثر