تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 176 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 176

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ شناخت کریں اور خدا سے جنگ کرنے کی بجائے اس کی رحمت کے پروں کے نیچے آجا ئیں "۔Bia مصیبت زدگان کی مرکزی امداد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۲ فروری ۱۹۳۲ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ زلزلہ کے مصیبت زدگان کی بلا امتیاز مذہب و ملت امداد کریں۔مرکز کی طرف سے مولانا غلام احمد صاحب فاضل برد ملی اظہار ہمدردی اور تفصیلات مہیا کرنے کے لئے بہار بھجوائے گئے۔اور مئی ۱۹۳۴ء میں تیرہ سو روپیہ کی رقم حضرت مولانا عبد الماجد صاحب امیر جماعت احمد یہ بھاگلپور کو روانہ کی گئی۔علاوہ ازیں ایک ہزار روپیہ ریلیف فنڈ میں دیا گیا۔Bal احمدیان بہار کی خدائی حفاظت اس قیامت خیز زلزلہ میں خدا تعالی کے فضل و کرم سے صوبہ بہار کے احمدیوں کی جانیں معجزانہ رنگ میں محفوظ رہیں۔چنانچہ حضرت مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری امیر صوبہ بہار نے ۲۲ فروری ۱۹۳۴ء کو زلزلہ کے چشم دید حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا۔" میرا مکان بھاگلپور کا چاروں طرف سے مسقف ہے اور درمیان میں صحن دس گیارہ ہاتھ مربع ہے۔زلزلہ کے وقت چاروں جانب کے مکان میں سخت جنبش ہوئی اور بظاہر کوئی امید کسی کے بچنے کی نہ تھی اس وقت ہم سب لوگ مع (صاحبزادہ مرزا) حنیف احمد سلمہ ، سر بسجود ہو کر دعا میں مشغول ہو گئے۔خدا تعالٰی نے فضل کیا اور سب کی جانیں بچ گئیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔شہر کے کسی اور احمدی کو بھی خدا کے فضل سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔مونگیر کے احمدی بھی عجیب و غریب طریقہ سے بچے۔سید وزارت حسین صاحب راجہ صاحب کے ملازم ہیں راجہ صاحب کے پاس ان کے مکان میں بیٹھے تھے کہ زلزلہ محسوس ہوا۔دونوں باہر کو بھاگے اور خدا کے فضل سے بچ گئے۔راجہ صاحب کا محل اور وزارت حسین صاحب کا کمرہ جس میں وہ رہتے تھے بالکل مسمار ہو گیا اور تمام مال و اسباب اس میں دب گیا مولوی عبد الباقی صاحب مولوی علی احمد صاحب کے بھتیجے مونگیر میں ملازم ہیں ان کا مکان دو منزلہ تھا۔نماز ظہر پڑھ کر قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ زلزلہ محسوس ہوا۔نیچے سے کسی نے پکارا کہ بھا گوارہ اسی حالت میں زینہ سے اترے اور نیچے پہنچے ہی تھے کہ سارا مکان بیٹھ گیا۔ان کا بھی کوئی مال و اسباب نہیں نکل سکا۔حکیم خلیل احمد صاحب کے بال بچے رام پور میں تھے اور حکیم صاحب گھر میں اکیلے تھے مکان سے باہر نکل آئے اور مکان زمین بوس ہو گیا۔دو بھائی سید عبد الغفار صاحب و سید محمد حنیف صاحب کی دکانیں بازار میں تھیں۔وہ اپنے مکان سے تو نکل گئے مگر دوسرے مکان کی دیوار کے نیچے دونوں بھائی دب گئے سید محمد حنیف صاحب تو شہید