تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 158
تاریخ احمدیت۔جلد 4 ۱۵۸ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا فیصلہ مباحثات کی نسبت اس زمانہ میں مباحثات و مناظرات کثرت سے ہوتے تھے اور خصوصاً پچھلے چند سالوں سے ان کی تعداد نسبتا بہت زیادہ ہو گئی تھی چنانچہ ۱۹۳۳ء میں ۷۸ امنا ظرے ہوئے۔HD اس بڑھتی ہوئی رو سے گو سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ کا دائرہ بھی وسیع ہوا مگر ساتھ ہی کئی قسم کی پیچیدگیاں اور مشکلات بھی پیدا ہو گئیں مخالف مباحثات میں سخت بد زبانی اور دریدہ دہنی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کرتے تھے جس کے جواب میں احمدی مناظر کے لئے دو ہی صورتیں تھیں یا تو خاموش رہے یا ترکی بہ ترکی جواب دے اور مخالفین کی طرح بد زبانی پر اتر آئے ظاہر ہے کہ یہ دونوں طریق جماعت کے لئے نقصان رساں تھے اس لئے نظارت دعوت و تبلیغ کی طرف سے مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء میں یہ معاملہ پیش کیا گیا جس پر کافی بحث و تمحیص کے بعد کثرت رائے نے یہ تجویز کی کہ - حتی الوسع پبلک مباحثات سے اجتناب کیا جائے اور انفرادی تبلیغ اور تقاریر پر زور دیا جائے۔اگر مخالفین کی طرف سے مباحثہ کا چیلنج ملے اور مباحثہ نہ کرنے کی صورت میں یہ اثر پڑتا ہو کہ گویا ہماری طرف سے فرار ہے تو بہتر ہے کہ مباحثہ تحریری ہو اور تحریر مجلس مناظرہ میں پڑھ کر سنائی جائے استثنائی حالات میں جہاں اس امر کا اطمینان ہو کہ فریق مخالف بدتہذیبی اور امن شکنی نہ کرے گا۔تقریری مباحثہ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں ان مباحثات کے لئے ناظر دعوۃ و تبلیغ کی اجازت قبل از تصفیه شرائط و تعین مباحثہ ضروری ہو گی۔اس کے سوا کہ مقامی جماعت مناظرہ کا اپنے طور پر انتظام کرے یا مرکزی مبلغ موجود ہو اور اپنے دورے کے پروگرام کو توڑے بغیر مباحثہ کر سکتا ہو ، مباحثہ کی ضرورت سے متعلق مقامی جماعت سے متفق ہو ؟ F41- tt اس پر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مباحثات کو پسند نہیں کیا بلکہ ایسی چیز قرار دی ہے جیسے جنگ کی مثال ہے دوسرا حملہ کرے تو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔اور وہ بھی اجازت ہے حکم نہیں۔رسول کریم کے ابتدائی وقت میں دشمن حملہ کرتے تو جنگ سے گریز کیا جاتا۔یہاں تک کہ ایک وقت آگیا جب مقابلہ ضروری ہو گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مباحثات کو نا پسند کیا ہے مگر پھر بھی آپ کے زمانہ میں مباحثات ہوئے۔یہ ٹھیک ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آپ کو مباحثات کرنے سے روک دیا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ جماعت میں ایسے بالغ عاقل افراد ند ہی لحاظ سے پیدا ہو گئے ہیں جو یہ بوجھ اٹھا