تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 159 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 159

تاریخ احمدیت جلده 104 سکیں۔ہماری یہ تجویز اسی روح کو تازہ کرنے والی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیدا کی کہ مباحثات سے حتی الامکان بچنا چاہئے۔اور انفرادی تبلیغ اور تقاریر پر زور دیا جائے۔اگر مخالفین کی طرف سے مباحثہ کا چیلنج ملے اور مباحثہ نہ کرنے کی صورت میں یہ اثر پڑتا ہو کہ گویا ہماری طرف سے فرار ہے تو بہتر ہے کہ مباحثہ تحریری ہو"۔میں اسے منظور کرتا ہوں۔دوسرا حصہ جو یہ ہے کہ مبلغ موجود ہو یا مقامی لوگ مباحثہ کر سکیں۔تو مرکز سے اجازت لینے کی ضرورت نہ ہو۔اس میں بعض خطرات باقی رہ جاتے ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایسا شخص مباحثہ کر لیتا ہے کہ وہ جو تحریر دے وہ کمزور ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جب وہ شائع ہوگی تو لوگوں پر یہ اثر پڑے گا کہ احمدی جواب نہیں دے سکے۔بعض باتیں ایسی ہیں کہ سب احمدی حقیقی طور پر انہیں سمجھتے نہیں حالانکہ ہم بار بار توجہ دلاتے رہتے ہیں۔اس وجہ سے میں تقریری مباحثات کو ترجیح دوں گا جہاں مقامی مناظر پیش ہو۔یعنی وہ تقریری مناظرہ کرے۔تحریری نہ کرے اور اگر تحریری کرے تو انفرادی طور پر کرے۔جماعت کی طرف سے پیش نہ ہو۔یعنی جہاں مرکزی مبلغ مناظرہ کرے وہاں تحریری مناظرہ کو ترجیح دی جائے۔اور جہاں مقامی مناظر پیش ہو وہاں تقریری کو۔مرکزی مناظرہ کی صورت میں تمام ذمہ داری مرکزی مناظر کی سمجھی جائے گی اور اس کا یہ کہنا کافی نہ ہو گا کہ مجھے جماعت کی طرف سے مناظرہ کے لئے مجبور کیا گیا تھا"۔وائسرائے ہند کی خدمت میں احمدیہ وفد ۲۶/ مارچ ۱۹۳۴ء کو نمائندگان جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے دہلی میں وائسرائے ہند لارڈ اور مسلم حقوق کے تحفظ کا اہم مسئلہ ولنگڈن سے ملاقات کی اور ان کی خدمت میں ایک ایڈریس پڑھا جس میں خاص طور پر ان سے درخواست کی کہ مستقبل میں ہندوستان کے نظام حکومت میں مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔چنانچہ وفد نے کہا۔ایک ایسی حکومت جس کے ماتحت ہر ملت و مذہب کے لوگ ہوں کسی خاص جماعت سے اپنے آپ کو وابستہ نہیں کر سکتی۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر ایک قوم اپنے جائز حقوق سے محروم ہو خواہ اس محرومی میں اس کی اپنی کو تاہی کا ہی کیوں نہ دخل ہو وہ ایک حد تک مدد اور سہارے کی محتاج ہوتی ہے اور مسلمانوں کی یہی حالت ہے۔حکومت مغلیہ کی تباہی کے بعد مسلمانوں پر دیر تک ایک سکتہ کا سا عالم رہا اور شاید یہ کہنا بھی بے جانہ ہو گا بلکہ لارڈ کرزن جیسے واقف گورنر جنرل کی اس خیال کو تصدیق حاصل ہے کہ حکومت بھی اپنا پیش رو ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو ابتداء میں شک کی نگاہ سے دیکھتی رہی۔لیکن جب کوئی شک پیدا ہو جائے تو وہ آہستہ آہستہ ہی دور ہوتا ہے