تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 157
ریت - جلید ۶ ۱۵۷ گئی تو اس کا تدارک اسی صورت میں ممکن تھا کہ حکومت کسی مسلمان بیرسٹر کو جس کی قابلیت دوسروں کے مقابلہ میں خاص درجہ رکھتی۔چیف جج بنا دیتی اور اس طرح مسلمانان پنجاب کی دیرینہ اور جائز آرزو پوری کر کے ان کے دل مٹھی میں لے لیتی لیکن افسوس کہ حکومت نے اس کی پروانہ کی اس نے جہاں مسلمانوں کے لئے بہت بڑی شکایت پیدا کر دی وہاں ہندوؤں کو موقعہ دے دیا کہ مسلمانوں کے سینے طعن و تشنیع کے تیروں سے چھلنی کر سکیں "۔TAL- ہائیڈرو الیکٹرک برانچ میں مسلمانوں کی حق تلفی کے خلاف آواز قریباً تمام کلیدی آسامیوں پر ہندو قابض تھے اس لئے مسلمانوں کے حقوق نہایت بے دردی سے پامال کئے جارہے تھے حتی کہ مسلم اکثریت کے صوبہ پنجاب میں بھی ان کے ساتھ صریح بے انصافی کا سلوک کیا جاتا تھا۔شہروں میں نئی نئی بجلی پہنچی تھی۔لیکن چونکہ ہائیڈرو الیکٹرک کا شعبہ (لوکل سیلف گورنمنٹ کے ہندو وزیر) ڈاکٹر گو کل چند صاحب نارنگ کے ماتحت تھا اس لئے اس صیغہ میں بھی مسلمان اکثریت کو جائز اور واجبی حقوق سے محروم رکھا جا رہا تھا۔مسلمانوں نے اس رویہ پر نکتہ چینی کی تو ہندو پریس نے ڈاکٹر نارنگ کی حمایت کی اور مسلمانوں کی نسبت اس بے بنیاد خیال کا اظہار کیا کہ ان کے سامنے تو ایک ہی وہم ہے کہ ہر محکمہ ہر شعبہ ہر صیغہ میں سوائے مسلمانوں کے اور کوئی نظر نہیں آنا چاہئے۔مسلمان چاہے انجینر نگ جانتے ہوں یا نہ وہ بجلی کے کام سے واقف ہوں یا ناواقف انہیں علم و ہنر کی دولت ملی ہو یا وہ اس پہلو میں خالص مفلس و قلاش ہی ہوں۔لیکن ہر ذمہ دار عہدہ پر مسلمان ہی رکھے جانے چاہئیں اور مسلمانوں کی آبادی کی اوسط سے انہیں ملازمت مل جانی چاہئے چاہے موچی دروازہ کے گامے اور ماجے ہی بھرتی کرنے پڑیں "۔اخبار "الفضل (۱۱/ مارچ ۱۹۳۴ء کے پرچہ میں) ہندو پریس کی اس افسوسناک ذہنیت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ ہائیڈرو الیکٹرک برانچ میں ان کے حقوق تلف کئے جانے کی یہ ایک مثال ہے اور اس قسم کی اور بے شمار مثالیں موجود ہیں مگر ان کے جواز کے لئے یہ کہنا کافی سمجھا جاتا ہے کہ مسلمان نا اہل اور ناقابل ہیں اگر حالات یہی رہے تو نا ممکن ہے کہ مسلمان کبھی ان محکموں میں کام کرنے کے قابل سمجھے جائیں۔لہذا انہیں چاہئے کہ وہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے پر زور جد و جہد کریں اور اس وقت تک دم نہ لیں جب تک اس صیغہ کی ہر چھوٹی بڑی لائن میں مسلمان ملازمین کی تعداد اتنی نہ ہو جائے جتنی ان کی آبادی کے تناسب سے ہوئی لازمی ہے۔FAS