تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 148
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۱۳۸ مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ پھر احکم جاری کرنے لگے ہیں۔اللہ تعالی برکت دے اور اس ارادہ کی تکمیل کے سامان پیدا کر دے۔الحکم سلسلہ کا سب سے پہلا اخبار ہے اور جو موقع خدمت کا اسے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری زمانہ میں اسے اور بدر کو ملا ہے وہ کروڑوں روپیہ خرچ کر کے بھی اور کسی اخبار کو نہیں مل سکتا۔میں کہتا ہوں کہ الحکم اپنی ظاہری صورت میں زندہ رہے یا نہ رہے لیکن اس کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ ہے سلسلہ کا کوئی مہتم بالشان کام اس کا ذکر کئے بغیر نہیں ہو سکتا۔کیونکہ وہ تاریخ سلسلہ کا حامل ہے۔لیکن دل یہی چاہتا ہے کہ الحکم " جس کا نام ہی بتا رہا ہے کہ ابتدائے ایام سے سلسلہ کے افراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کیا درجہ سمجھتے تھے۔اپنی ظاہری صورت میں بھی زندہ رہے اور اللہ تعالٰی آپ کو اور آپ کی نسل کو اس خدمت کی ہمیشہ توفیق دیتار ہے۔اللهم آمین۔خاکسار میرزا محمود احمد 0 ۱۹۳۴ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے اہم سفر حضرت امیر المومنین علیقہ لاہور۔تین دفعہ فیروز پور اور ایک بار گوجرانوالہ تشریف لے جانا پڑا۔ان سفروں کے مختصر حالات و کوائف درج ذیل ہیں۔(۱) حضور ۱۸/ جنوری کو قادیان سے روانہ ہو کر لاہور تشریف لائے۔اور یہاں سے چل کر فیروز پور اور قصور میں قیام پذیر ہونے کے بعد ۲۸/ جنوری ۱۹۳۴ء کو دارد قادیان ہوئے۔BA حضور نے اس سفر کے دوران ۲۵/ جنوری ۱۹۳۴ء کو بمقام قصور احمدیت کے اصول“ کے موضوع پز ایک معرکتہ الاراء تقریر فرمائی جس کا مکمل متن الفضل میں بھی شائع ہو گیا تھا۔ازاں بعد حضور کو ۲۴ فروری ۱۹۳۴ء سے لے کریکم مارچ ۱۹۳۴ء تک دوبارہ لاہور اور فیروز پور کا سفر اختیار کرنا پڑا (۲) صاحبزادی امته الرشید صاحبہ کی علالت کے سلسلہ میں حضور ۱۸/ اپریل ۱۹۳۴ء کو گوجرانوالہ تشریف لے گئے اور گوجرانوالہ اور لاہور میں قیام پذیر رہنے کے بعد ۲۳/ اپریل ۱۹۳۴ء کو قادیان میں رونق افروز ہوئے۔BI صاحبزادی صاحبہ کی عیادت کے سلسلہ میں بار بار آپ کو لاہور آنا پڑا۔(۳) لاہور میں بعض علمی لیکچروں کا پروگرام تھا جس میں شمولیت کے لئے حضور ۲۸/ مئی ۱۹۳۲ء کو قادیان سے لاہور تشریف لائے۔قیام لاہور کے دوارن حضور کے دو شاندار لیکچر ہوئے جن کا انتظام پنجاب لٹریری لیگ نے کیا۔