تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 149 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 149

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۳۹ پہلا لیکچر: ”عربی زبان کا مقام السنہ عالم میں" کے موضوع پر ڈاکٹر برکت علی صاحب قریشی ایم اے۔پی۔ایچ۔ڈی پرنسپل اسلامیہ کالج کی صدارت میں ۳۱ / مئی کو وائی ایم سی۔اے ہال میں ہوا۔جو ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب جاری رہا۔اور بہت مقبول ہوا۔ہال کی وسعت سے بہت زیادہ ٹکٹ جاری کرنے کے باوجود بہت سے لوگوں کو جگہ کی تنگی کی وجہ سے لیکچر سنے کا موقعہ نہ مل سکا۔اختتام پر جناب صدر صاحب نے شکریہ ادا کرنے کے بعد حاضرین کو لیکچر سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلائی اور خواہش ظاہر کی کہ ایسے علمی مضامین پھر بھی سننے کا موقعہ ملے۔صدارتی خطاب کے بعد لالہ کنور سین صاحب سابق چیف جج کشمیر نے انگریزی زبان میں ایک تقریر کی۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ آج قابل لیکچرار نے زبان عربی کی فضیلت پر جو دلچسپ اور معرکتہ الاراء تقریر کی ہے اسے سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور اس لحاظ سے بھی خوشی ہے کہ ذاتی طور پر میرے آپ سے تعلقات ہیں چنانچہ آپ کے والد ماجد سے میرے والد صاحب (لالہ بھیم سین صاحب) نے عربی زبان سیکھی تھی جب میں لیکچر سننے کے لئے آیا۔اس وقت میں نے خیال کیا تھا کہ مضمون اس رنگ میں بیان کیا جائے گا جس طرح پرانی طرز کے لوگ بیان کیا کرتے ہیں۔مگر جو لیکچر دیا گیا۔وہ نہایت ہی عالمانہ اور فلسفیانہ شان اپنے اندر رکھتا ہے میں جناب مرزا صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے ان کے لیکچر کے ایک ایک حرف کو پوری توجہ اور کامل غور کے ساتھ سنا ہے اور میں نے اس سے بہت ہی خط اٹھایا اور فائدہ حاصل کیا ہے مجھے امید ہے کہ اس لیکچر کا اثر مدتوں میرے دل پر رہے گا۔اور میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ جن دوسرے احباب نے یہ مضمون سنا ہے وہ بھی تادیر اس کا اثر اپنے دلوں میں محسوس کریں گے۔باقی زبان کے متعلق چونکہ نظریوں میں اختلاف ہے اور سنسکرت زبان بھی بہت سے قواعد پر مبنی ہے اس لئے عربی اور سنسکرت کا مقابلہ کرنے میں میں نہیں پڑنا چاہتا۔اور ایک دفعہ پھر قابل لیکچرار کے بیش قیمت لیکچر کا دلی اخلاص سے شکریہ ادا کر تا ہوں۔دوسرا لیکچر و ۱۲ جون ۱۹۳۴ء کو ڈاکٹر ایس کے د تا پر نسپل فورمین کرسچن کالج کی صدارت میں ٹاؤن ہال میں ہوا۔حضور کا یہ لیکچر "کیا انسان مذہب کا محتاج نہیں۔کے عنوان پر تھا جو قریباً دو گھنٹہ تک جاری رہا۔سامعین میں کالجوں کے پروفیسر وکلاء اور طلباء خاص طور پر شامل تھے۔لیگ کی طرف سے حضور کو پھولوں کا ہار پہنایا گیا۔صدر جلسہ نے اپنی افتتاحی تقریر میں سامعین کو متوجہ کیا کہ وہ ایسی عظیم الشان شخصیت کا لیکچر بہت توجہ سے سنیں اور آخر میں لیکچر کی بہت تعریف کی اور خواہش ظاہر کی کہ پھر بھی لاہور کی پبلک کو آپ کے قیمتی خیالات سنے کا موقعہ میسر آئے۔ان کامیاب تقاریر کے علاوہ حضور نے ۳۱ / مئی ۱۹۳۲ء کو آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن کے ایک