تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 147
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۱۴۷ اور اس نیت سے کریں کہ دین کو تقویت ہو ا یہ گویا پانچ ستون تھے جن پر تحریک سا لکین کی بنیاد رکھی گئی۔اس مبارک تحریک میں بہت سے مخلصین جماعت نے اپنے نام پیش کئے جن میں سے بعض اصحاب کے نام یہ تھے۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب شیخ اعجاز احمد صاحب سب بیج - سید لال شاہ صاحب امیر جماعت احمدیہ آنبه ضلع شیخوپورہ ماسٹر برکت علی صاحب فائق لدھیانہ - چوہدری محمد شریف صاحب وکیل منگمری - ماسٹر مسیح الدین صاحب پشاور - حافظ عبد السلام صاحب امیر جماعت احمد یہ شملہ - ملک صلاح الدین صاحب قادیان - حافظ بشیر احمد صاحب جالندھری جامعہ احمدیہ قادیان- قاضی عبد الرحمن صاحب دوالمیال ضلع جہلم چوہدری فضل احمد صاحب اے ڈی آئی آف سکولز گجرات۔ماسٹر محمد 1 ابراہیم صاحب ننکانہ صاحب چوہدری غلام محمد صاحب پوہلہ مہاراں - بابو شمس الدین خان صاحب پولٹیکل کلرک لنڈی کوتل۔مرزا احمد بیگ صاحب انکم ٹیکس افسر گجرات - بابو احمد جان صاحب کو ئٹہ۔مولوی عبد الرحمن صاحب انور بو تالوی - بابا حسن محمد صاحب (والد مولوی رحمت علی صاحب) حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد صوفی غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس۔ڈاکٹر بدر الدین صاحب مگاڑی (افریقہ) ڈاکٹر محمد شاہ نواز صاحب چوہدری عبد اللہ خان صاحب ایگزیکٹو آفیسر قصور - چودھری ابوالہاشم خان صاحب ڈھاکہ۔الحکم کا دوبارہ اجراء اور حضرت سلسلہ احمدیہ کا سب سے پہلا اخبار "الحکم ایک عرصہ سے بند ہو چکا تھا حضرت شیخ یعقوب علی خلیفتہ المسیح الثانی کا اظہار مسرت صاحب عرفانی کبیر ۱۹۲۵ء کی پہلی ششماہی میں یورپ اور بلاد اسلامیہ کی سیاحت کے لئے تشریف لے گئے اور حج بیت اللہ سے مشرف ہو کر ۱۹۲۷ء میں واپس آئے اور کچھ مدت مرکز میں رہنے کے بعد ۱۹۳۰ء میں بمبئی چلے گئے اور وہاں ۱۹۳۱ء سے " سالار" کے نام سے ایک ہفت روزہ جاری کر دیا۔لیکن الحکم کے احیاء کا خیال آپ کو دوبارہ قادیان لے آیا۔اور آپ نے ۱۴/ جنوری ۱۹۳۴ء سے دوبارہ الحکم نکالنا شروع کر دیا۔اور آپ کے فرزند شیخ محمود احمد صاحب عرفانی جو قاہرہ میں اسلامی دنیا" کی کامیاب ادارت کرتے رہے تھے اس دور جدید کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔BI ورجدید حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو الحکم کے دوبارہ اجراء پر بہت خوشی ہوئی اور حضور نے اپنے قلم سے ۱۳۹۴ حضرت شیخ صاحب کے نام مندرجہ ذیل مکتوب مبارک لکھا۔مگر می شیخ صاحب ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاته