تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 141
تاریخ احمدیت جلد ۷ صاحب مرحوم امیر جماعت پاک ٹین نے پنڈت پر نجی لال پریم سے مناظرہ کر کے پنڈت جی سے منوایا لیا کہ لیکھرام سے متعلق پیشگوئی وقت پر پوری ہوئی۔مباحثہ سرائیل: (بنگال) (۱۲) مارچ ۱۹۳۳ء) ایک غیر احمدی عالم سے مولوی سید سعید احمد صاحب نے "صداقت مسیح موعود" کے مسئلہ پر ایک کامیاب مناظرہ کیا - bal مناظره تاریگام کشمیر: (اند از امتی / اپریل ۱۹۳۳ء) مولوی عبد الواحد صاحب اور مولوی عبد الاحد صاحب دا توی احمدی مباحث تھے۔اور غیر احمدیوں کی طرف سے مشہور فاضل دیوبند مولوی محمود شاہ صاحب شامل ہوئے۔غیر احمدیوں کے پریذیڈنٹ نے تسلیم کیا کہ ہمارے مولوی صاحب سوالوں کے جواب نہیں دے سکے۔نیز کہا کہ ان کو غصہ بہت آتا ہے اور گالیوں پر اتر آتے ہیں اس پر محمود شاہ صاحب کے بعد مولوی ابراہیم صاحب کھڑے کئے گئے انہوں نے دلائل کا جواب اشتعال انگیزی سے دیا جسے تعلیم یافتہ طبقہ نے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔Bal مناظره وزیر آباد (اپریل ۱۹۳۳ء) مولوی عبد الغفور صاحب فاضل نے لال حسین صاحب سے مناظرہ کیا۔شرفاء نے احمد کی مناظر کے دلائل کی معقولیت کا اقرار کیا۔20 مناظرہ سیالکوٹ: (اند از اجون ۱۹۳۳ء) یہ نہایت کامیاب مناظرہ تھا جو احمدیوں اور اہل حدیثوں میں ہوا۔احمدی مناظر ملک عبد الرحمن صاحب خادم اور مولوی محمد سلیم صاحب تھے اور فریق ثانی کی طرف سے مولوی احمد دین صاحب لکھوی، لال حسین صاحب اختر اور مولوی محمد ابراہیم صاحب شریک بحث ہوئے مناظرہ کے خاتمہ پر چار اصحاب نے بیعت کی۔alia مناظرہ لدھیانہ: (اند از آجولائی ۱۹۳۳ء) محلہ قاضیاں میں شیخ مبارک احمد صاحب فاضل اور بابو عبد الحمید صاحب آرنسل کلرک فیروز پور کا مناظرہ ہوا۔غیر احمدی مناظر دلائل سے بالکل لاجواب ہو گئے۔Ba مناظره غازی آباد (ماہ جولائی ۱۹۳۳ء) کیا ویدوں کا خدا خدا ہے"۔اور "کیا یدک تعلیم عالمگیر ہے " ان دو مضامین پر حضرت ماسٹر محمد حسن خان صاحب آسان دہلوی نے سنائیوں سے مناظرہ کیا۔جس کا پالک پر بہت اچھا اثر ہوا۔مناظرہ بالیسر : (۱۸/ جولائی ۱۹۳۳ء) بالیسر کے غیر احمدی مسلمانوں کو علم ہوا کہ لاہور سے ایک پادری (عبدالسبحان صاحب پروفیسر آرہے ہیں تو انہوں نے قادیان اطلاع دی جس پر مولوی عبد السلام صاحب احمدی سنگڑوی بھیجوائے گئے جنہوں نے مناظرہ کے آغاز میں دو تین ایسے مدلل اعتراض کئے کہ پادری صاحب بے بس ہو کر کہنے لگے کہ اے سنی بھائیو! آپ لوگ ایک مرزائی کو پیش