تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 142 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 142

تاریخ احمدیت جلد ۱ کرتے ہیں حالانکہ مرزائیوں کو علماء نے متفقہ طور پر کفر کا فتویٰ دیا ہے اہلسنت و الجماعت سے تعلق رکھنے والے مسلمان یہ چال سمجھ گئے اور انہوں نے کہا اس وقت وہ اسلام کی نمائندگی کر رہے ہیں یہ سن کر پادری صاحب نے معافی مانگ لی - RO مناظره بنارس (۲۰/ اگست ۱۹۳۳ء) مولوی عبد المجید صاحب بی۔اے مولوی فاضل نے ایک غیر احمدی عالم مولوی محمد یوسف صاحب سے تین مشہور اختلافی مسائل پر مباحثہ کیا جس میں جماعت کو نمایاں غلبہ حاصل ہوا۔Bal مناظرہ شمله : (۲۷/ اگست ۱۹۳۳ء) علامہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے " وفات مسیح" کے موضوع پر اور ختم نبوت" اور "صداقت مسیح موعود" کے موضوع پر مولوی محمد سلیم صاحب فاضل نے غیر احمدی علماء سے مناظرہ کیا۔احمدی مقررین کی تقریریں نہایت موثر اور طرز استدلال نہایت عام فہم تھا جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔1 مناظرہ پونچھ : ۲۷/ اگست ۱۹۳۳ء) احمدی مبلغ مولوی محمد حسین صاحب نے غیر احمدی عالم کرم دین سے مبادلہ خیالات کیا۔غیر احمدیوں نے اقرار کیا کہ ہمارے عالم حیات مسیح کی کوئی معقول دلیل پیش نہیں کر سکے نیز کہا کہ ایک وقت آئے گا کہ آخر سب احمدی ہو جائیں گے۔مناظرہ مدرسہ چٹھہ ( تحصیل وزیر آباد) ( تمبر ۱۹۳۳ء) مولوی دل محمد صاحب مولوی فاضل نے موادی محمد نذیر صاحب عالم المسنت و الجماعت سے تینوں مشہور متنازعہ مسائل پر مناظرہ کیا۔غیر احمد یوں کا تاثر یہ تھا کہ ان کے مولوی صاحب نے کسی دلیل کا جواب نہیں دیا۔مناظره بنگلور (۱۹/ ستمبر ۱۹۳۳ء) یہ مناظرہ عثمانیہ تھیٹر بنگلور شہر میں منعقد ہوا۔جس میں ملک عبد الرحمن صاحب خادم کی ختم نبوت پر تقریر اور عالمانہ وفاضا نہ بحث نہایت درجہ موثر تھی۔حنفیوں نے پہلے دن کے مناظرہ کا اثر دیکھ کر دوسرے دن کا مناظرہ جبرا روک دیا۔مناظرہ بنگہ (ضلع جالندھری) (۱۲۸ تا ۳۰/ اکتوبر ۱۹۳۳ء) یہ اس سال کا نہایت اہم مناظرہ تھا جس میں جماعت احمدیہ کو نمایاں فتح ہوئی۔احمدی منا نظریہ تھے۔علامہ مولانا جلال الدین صاحب شمس" مولوی علی محمد صاحب اجمیری، مولوی محمد سلیم صاحب فاضل - فریق مخالف کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب کولو تار ژوی اور مولوی محمد صاحب عریبک نیچر رائے کوٹ نے بحث کی۔اختام جلسہ پر چار نفوس نے احمدی ہونے کا اعلان کیا۔فریق مخالف نے بھی تین آدمی کھڑے کئے۔جنہوں نے کمال سادگی سے اعلان کیا کہ ہم پہلے مرزائی تھے اب احمدی ہوتے ہیں۔اس پر بے اختیار چاروں طرف سے قہقہے بلند ہوئے۔بنگہ میں غیر احمدیوں کے ساتھ یہ پہلا مناظرہ تھا جس کے علاوہ دو آبہ میں غیر معمولی 1