تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 135
تاریخ - جلد 4 ۱۳۵ پہلا باب (فصل نہم) ۱۹۳۳ء کے بعض متفرق مگر نہایت اہم واقعات حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی عیادت مولوی میاں عبدالمنان صاحب عمر خلف حضرت خلیفتہ المسیح الاول) ۱۹۳۳ء کے شروع میں سخت بیمار ہو گئے۔۱۵/ جنوری کو خون کی قے بھی آئی یہ اطلاع ملنے پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بہ نفس نفیس عیادت کے لئے تشریف لے گئے اسی طرح حضرت مسیح موعود کا قریباً سارا خاندان بھی۔حضرت امیر المومنین کے حکم پر مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ ادویہ اور ڈاکٹر لانے کے لئے لاہور گئے اور راتوں رات ڈاکٹر عبد الحق صاحب اسٹنٹ سرجن کو ساتھ لے آئے۔ia اس کے بعد میاں صاحب موصوف کو افاقہ ہونا شروع ہوا اور آپ جلد صحت یاب ہو گئے۔رونئی مساجد اس سال ملک میں دو نئی احمد یہ مسجدوں کی تعمیر ہوئی۔(۱) مسجد انبالہ ( تاریخ بنیاد ۲۵/ مارچ ۱۹۳۳ء) ٣١٣١ ۲ مسجد بھدرک اڑیسہ ( تاریخ بنیاد ۱۶/ جون ۱۹۳۳ء) مسجد انبالہ اس زمین میں بنائی گئی جو مقامی جماعت کے امیر بابو عبد الرحمن صاحب نے اپنے مکان کے لئے مخصوص کر رکھی تھی۔اور اس کا نقشہ بھی تیار ہو چکا تھا۔حاجی میراں بخش صاحب نے زر کثیر صرف کر کے یہاں مسجد تعمیر کرائی جس کا افتتاح ۳۰/ جولائی ۱۹۳۳ء کو ہوا۔مسجد بھدرک مولوی نور محمد صاحب انسپکٹر ریلوے پولیس ( خوردہ روڈ اڑیسہ) کی ذاتی کوشش اور اخراجات سے تیار ہوئی اور ۲۶ / دسمبر ۱۹۳۳ء کو اس کا افتتاح ہوا۔تعمیر مسجد کے خلاف غیر احمدیوں نے پورا زور صرف کیا اور قانونی چارہ جوئی بھی کی مگر نا کام رہے۔1 ۱۹۳۳ء کی مجلس مشاورت میں بیکاری کے انسداد کی نسبت علاوہ دوسری تجاویز انسداد بیکاری کے یہ فیصلہ بھی ہوا کہ قادیان میں ایک ہفتہ وار بازار کا انتظام کیا جائے چنانچہ ۱۹۳۳ء کے وسط میں " سب کمیٹی انسداد بیکاری" کے زیر انتظام ریتی چھلہ ( قادیان) میں ہر جمعہ کے ' روز بازار لگایا جانا شروع ہوا۔