تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 136 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 136

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ کو ٹلی ضلع گجرات میں مباہلہ ۲۸ اگست ۱۹۳۳ء کو موضع کوٹلی (ضلع گجرات) میں احمدیوں اور غیر احمدیوں کا مباہلہ ہوا۔دونوں طرف سے اکیس اکیس افراد نے شرکت کی خدا تعالیٰ کے فضل سے تمام احمدی افراد آخر سال تک بخیریت و عافیت رہے مگر غیر احمدی مباہلین میں سے دو ( شرف دین اور احمد نامی) موت کا شکار ہوئے۔ایک اور شخص (پیر بخش) بھی جو اگرچہ مباہلین کی فہرست میں نہیں تھا مگر دعا میں شامل ہو گیا تھا اور سخت مخالف تھا مر گیا اسی طرح ایک غیر احمدی مباہل کی بیوی لقمہ اجل ہو گئی اور ایک پر فالج گرا۔ایک کالڑ کا مرا اور دوسرے کا پوتا۔یہ گویا آسمانی فیصلہ تھا جو خدائی عدالت سے احمدیت کے حق میں صادر ہوا۔جادا مشن و جادا میں اس سال دو معرکتہ الاراء بیرونی مشنوں کے بعض اہم واقعات مباحثے ہوئے۔پہلا مناظره ۱۳ - ۱۴- ۱۵/ اپریل کو ۱۳۱۹ بمقام بنڈنگ ہوا۔جس میں پہلے مولوی رحمت علی صاحب نے مقامی انجمن "میلا" اسلام " (PEMBELA ISLAM) کے مناظر حسن صاحب بنڈوم کو شکست فاش دی۔غیر احمدی مناظر گھر سے سوالات لکھ کر لایا تھا مگر مولوی رحمت علی صاحب فی البدیہ جواب دے رہے تھے جس کا اثر یہ ہوا کہ حاضرین احمدیوں کے تبحر علمی کے قائل ہو گئے اور کھلے بندوں اقرار کرنے لگے کہ ہمارا مناظر ہر گز اصل موضوع کی طرف نہیں آیا۔احمدی مناظر نے نہایت معقول اور مسکت جواب دیئے ہیں دوسرے دن مولوی ابو بکر صاحب ساری مناظر تھے جن کے زبر دست دلائل کی تاب نہ لاکر غیر احمدی مناظر گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔اور آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا کہ " اے خدا ! میں کس سے مد دلوں"۔صدر مباحثہ نے کہا۔" اس وقت تمہاری کوئی بھی مدد نہیں کرے گا۔غیر احمدی مناظر پہلے دودن غیر متعلق سوالات کر کے پبلک میں بہت ندامت اٹھا چکا تھا۔اس لئے تیسرے دن اس نے اصل موضوع وفات مسیح پر گفتگو کرنا شروع کی۔مگر جب اس کے اعتراضوں کا پہلی بار ہی تسلی بخش جواب دے دیا گیا تو وہ بے بس ہو کے رہ گیا۔اس مناظرہ میں خاص پابندیوں اور شرطوں کے باوجود ایک ہزار اصحاب شامل ہوئے جن میں جاوا سماٹرا، سنگا پور بورنیو کے نمائندے بھی تھے۔اور اخباروں کے نامہ نگار اور حکومت کے افسر بھی! سماٹرا اور جاوا کے مشہور عالم ڈاکٹر حاجی عبد اللہ احمد صاحب اور احمد سور کاتی HD بھی مناظرہ سننے کے لئے تشریف لائے غرضکہ اس مناظرہ میں احمدیت کو شاندار فتح نصیب ہوئی۔اور احمدیت کا چرچا جزائر شرق الہند کے اکناف و اطراف میں پھیل گیا۔مناظرے کے بعد مولوی رحمت علی صاحب نے صدر جلسہ سے کہا کہ اب آپ ہمارے پاس