تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 113
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ آخر میں ان کو جماعت احمدیہ کے شاندار مستقبل کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا۔”ہماری جماعت پھر مسلمانوں کو تیرہ سو سال پیچھے لے جارہی ہے۔ہم دنیا کی گرد کے برابر بھی نہیں لیکن خدا کے فضل سے فتح ہماری ہے۔ایک سمجھدار انسان بڑ کے درخت کی تازہ نکلنے والی کونپل کو نہیں دیکھا کرتا۔بلکہ وہ اس کی سبزی اور شادابی سے اس کے آئندہ بننے والے تنے کو دیکھتا ہے۔اگر بزرگ مهر صاحب دور اندیشی کی عینک لگا کر ہماری حقیقت کو دیکھیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ احمدیت کی اس چھوٹی سی کونپل میں وہ طاقت موجود ہے کہ ایک تھوڑے سے عرصہ میں وہ ایک ایسے تناور درخت کے پیدا کرنے کے قابل ہوگی۔جس کے سائے میں بیٹھنے کے لئے دنیا مجبور ہو گی " مسلم تنظیموں کی مالی امداد اور ہندوؤں کی برہمی حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے ایک بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا۔"ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب خود آل انڈیا مسلم پارٹیز کانفرنس کے صدر ہیں اور اس حیثیت میں انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جس باڈی کے وہ صدر ہیں اس کے کام کو کامیاب بنانے کے لئے سب سے زیادہ مالی امداد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے دی ہے یعنی ۱۹۳۰ء سے اس وقت تک آپ اس مجلس کے لئے تین ہزار کے قریب روپیہ دے چکے ہیں اگر احمدی دو سروں کے ماتحت کام کرنا نا پسند کرتے تو اس قدر مالی امداد جو دوسرے مسلمانوں کی امداد کے غالبا برابر ہو گی وہ اس انجمن کو کیوں دیتے جس کے صدر سر محمد اقبال صاحب ہیں۔مسلم لیگ کے رجرات سے بھی یہ امر ثابت ہو سکتا ہے کہ اس کی امداد میں بہت بڑا حصہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کا ہے۔حالانکہ اس مجلس کے صدر بھی سوائے ان چند ایام کے جن میں چودھری ظفر اللہ خان صاحب صدر ہوئے ایسے احباب ہوتے رہے ہیں جو جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے "۔ہندوؤں کے اخبار " پر تاپ" کو جماعت احمدیہ کی مالی امداد (جو مسلمانوں کی سیاسی انجمنوں کو اسلامی اغراض کے تحت دی گئی تھی) بہت ناگوار گزری اور اس نے مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ پر یہ الزام عائد کر دیا کہ اسی امداد کی وجہ سے ان جماعتوں نے وطن کشی" پر کمر باندھ رکھی ہے چنانچہ اس نے ۳۰ / جون ۱۹۳۳ء کو لکھا۔مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ نے جو روش اختیار کر رکھی ہے اس کے لئے احمدی جماعت کا روپیہ ذمہ دار ہے مسلم کانفرنس کا جنم ہی بطور ایک ٹوڈی جماعت کے ہوا اور کچھ عرصہ سے مسلم لیگ بھی ٹوڈیت میں اس کے دوش بدوش چل رہی ہے۔۔۔کسی وقت تو تعجب ہو تا تھا لیکن اب نہیں رہا کہ ان |