تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 112 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 112

تاریخ احمد بیت، جلد ۲ ١١٢ ۱۲۵۳ کی عمارات بن چکی تھیں۔گیارہ سال کے بعد ۱۹۳۱ء میں مرزا اکرم بیگ صاحب اور ان کی والدہ نے مرزا اعظم بیگ پر مرزا اکرم بیگ صاحب سے استقرار حق کا دعوی سینئر سب جج صاحب گورداسپور کی عدالت میں دائر کر دیا۔جو ڈھائی سال تک پلتا رہا۔آخر ۱۴/ نومبر ۱۹۳۳ء کو دعوئی خارج ہو گیا۔اس مقدمہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے علاوہ ۲۵/ مئی ۱۹۳۳ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی شہادت بھی ہوئی۔اس موقعہ پر چوہدری اسد اللہ خاں صاحب بیرسٹر لا ہو ر اور شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ گوجرانوالہ بھی موجود تھے۔گئے۔۲۵۵ ۲۵۴ وسط ۱۹۳۲ء میں لاہور کے احمدی نوجوانوں نے " ینگ مین احمدیہ فیلوشپ آف یوتھ احمد یہ ایسوسی ایشن" کے نام سے ایک تبلیغی انجمن قائم کی جس کے پریذیڈنٹ سید محمود احمد صاحب بی۔اے اور سیکرٹری چوہدرری بشیر احمد صاحب صادق مقرر کئے یہ انجمن جلسوں کے علاوہ ہر ماہ ایک تبلیغی ٹریکٹ بھی شائع کرتی تھی۔چند ماہ بعد اس کا نام "احمدیہ فیلو شپ آف یو تھ " کر دیا گیا اور ۳۴-۱۹۳۳ء کے لئے مندرجہ ذیل عہدیدار تجویز کئے گئے۔(پریذیڈنٹ) ملک عبد الرحمن صاحب خادم بی۔اے (سیکرٹری) محمد ابراہیم صاحب ناصر (اسسٹنٹ سیکرٹری قاضی محمود صادق صاحب ( فنانشل سیکرٹری) عطاء اللہ خان صاحب۔ملک عبد الرحمن صاحب خادم انجمن کے قیام ہی سے اس کے سرگرم اور پر جوش ممبر بلکہ روح رواں تھے اس کے بعد ہر سال المجمن کا نیا انتخاب ہو تا رہا۔احمد یہ فیلوشپ آئی یوتھ " کے ممبروں کا دائرہ آہستہ آہستہ وسیع ہو تاگیا اور لاہور سے باہر بھی اس کی شاخیں قائم ہو گئیں۔انجمن کی قابل تعریف تبلیغی سرگرمیوں کی بناء پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے خاص طور پر اپنے قلم سے ایک قیمتی مضمون ” پکارنے والے کی آواز بھی اسے عطا فرمایا۔جو اردو اور انگریزی میں ۱۹۳۳ء کے "یوم التبلیغ" پر شائع کیا گیا۔اسی طرح مصری فتنہ کے زمانہ میں انجمن کی طرف سے "محمود کی آمین" بکثرت شائع کی گئی۔R اور وسط ۱۹۳۸ء میں اس کے ماتحت ایک مذہبی کانفرنس کا بھی انعقاد ہوا۔غرنکہ تحریک خدام الاحمدیہ کے قیام سے قبل اس انجمن کو نظارت دعوۃ و تبلیغ کے زیر ہدایات تبلیغی خدمات انجام دینے کا موقعہ ملا۔ایک ایرانی کے سوالات اور ان کے جوابات (سال ۱۹۳۳ء میں ایک ایرانی بزرگ صر صاحب کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت اقدس میں چار سوالات پہنچے جن کا تعلق پیدائش عالم 'مذہبی خیال کے ارتقاء الہام کی حقیقت اور تحمیل دین سے تھا۔حضور پر نور نے ان سب سوالات کا مسکت جواب دینے کے بعد