تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 114
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۱۱۴ جماعتوں نے وطن کشی پر کیوں کمر باندھ رکھی ہے۔اب معلوم ہوا ہے کہ انہیں اس مالی امداد کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جو انہیں جماعت احمدیہ کی طرف سے ملتی رہی ہے۔دراصل مسلمانوں کا سیاسی اتحاد ہندوؤں کی نگاہ میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا اور اس میں رخنہ اندازی کے لئے وہ مختلف سیاسی چالیں چل رہے تھے۔چنانچہ "پر تاپ" نے مندرجہ بالا نوٹ میں یہاں تک لکھا کہ مسلمانوں اور احمدیوں کا ایک دوسرے کو کافر کہنا محض دھوکہ کی ٹٹی ہے۔دونوں اپنے پولٹیکل اغراض مشترکہ سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔مسلمان ہندوؤں کو بھی کافر کہتے ہیں اور احمدیوں کو بھی۔لیکن ہندو کافر کے ساتھ وہ تعاون گوارا نہیں کر سکتے اور احمدی کافر کے ساتھ خوب گھل مل کر رہتے ہیں۔احمدی بھی مسلمانوں کو اسی حد تک کافر سمجھتے ہیں کہ وہ کسی مسلم امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو تیار نہیں اور نہ ہی کسی احمدی کو غیر احمدی سے رشتہ ناطہ کرنے کی اجازت ہے۔ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جبکہ احمدیوں کو اس لئے سزادی گئی کہ انہوں نے غیر احمدیوں کے ساتھ تعلق پیدا کیا۔اگر باوجود اس کے احمدی اور غیر احمدی کسی مسلم انجمن میں شامل ہو سکتے ہیں تو یقینا ان کی پوزیشن دوسروں کی نظر میں مضحکہ خیز ہو جاتی ہے یہ عجیب بات ہے کہ مذہبی اغراض کے لئے ایک شخص کافر ہو اور پولٹیکل اغراض کے لئے دہی شخص مومن بن جائے"۔اخبار "الفضل" نے " پر تاپ " کی اس روش پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ۔ہندوؤں کے نزدیک مسلمانوں کا اپنے پولٹیکل اغراض کو مشترکہ سمجھنا اور احمدی و غیر احمدی کا کسی مسلم انجمن میں شامل ہو نا تو " مضحکہ خیز " پوزیشن ہے لیکن ہندو فرقوں میں مذہبی لحاظ سے زمین و آسمان کا فرق ہونے کے باوجود ان کا سیاسیات میں اتحاد عین معقولیت ہے۔حتی کہ اچھوت اقوام جنہیں ہندو بد ترین مخلوق سمجھتے ہیں اور ان سے نہایت ہی شرمناک سلوک کرتے چلے آرہے ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ شریک کرنا معقولیت پر مبنی قرار دیتے ہیں اگر احمدی و غیر احمدی کو عقائد کے اختلاف کی وجہ سے سیاسی اغراض مشترکہ میں متحد نہیں ہونا چاہئے۔اور اس طرح بالفاظ "پر تاپ“ ان کی پوزیشن دوسروں کی نظروں میں مضحکہ خیز ہو جاتی ہے تو پھر ہندو مذہبی لحاظ سے آپس میں بعد المشرقین رکھتے ہوئے سیاسیات میں کیوں متحد ہیں۔اور کیوں انہیں اپنی پوزیشن مضحکہ خیز نظر نہیں آتی؟ اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ اور بھی ہو سکتی ہے کہ ہندو مسلمانوں کو پراگندہ اور منتشر دیکھنا چاہتے ہیں۔لیکن آپس میں زیادہ سے زیادہ اتحاد قائم کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کر کے تباہی کے گھاٹ اتار سکیں۔مسلمانوں نے اگر ہندوؤں کی اس چال کو نہ سمجھا اور باوجود یہ جاننے کے نہ i