تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 111
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ میری مگر وہ پھر بھی نہیں روئی۔حتی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اسے نہیں معلوم کہ موت کیا چیز ہے ؟ مگر نہیں یہ غلطی تھی۔یہ لڑکی مجھے ایک اور سبق دے رہی تھی۔سارہ بیگم دار الانوار کے نئے مکان میں فوت ہو ئیں۔جب ہم اپنے اصلی گھر دار المسیح میں واپس آئے تو معلوم ہوا اس کے پاؤں میں بوٹ نہیں ایک شخص کو بوٹ لانے کے لئے کہا گیا۔وہ بوٹ لے کر دکھانے کے لئے لایا تو میں نے امتہ النصیر سے کہا۔تم پسند کرلو۔جو بوٹ تمہیں پسند ہو وہ لے لو۔وہ دو قدم تو بے دھیان چلی گئی۔پھر یکدم رکی اور ایک عجیب حیرت ناک چہرہ سے ایک دفعہ اس نے میری طرف دیکھا اور ایک دفعہ اپنی بڑی والدہ کی طرف۔جس کا یہ مفہوم تھا کہ تم تو کہتے ہو جو بوٹ پسند ہو لے لو۔مگر میری ماں تو فوت ہو چکی ہے مجھے بوٹ لے کر کون دے گا۔میں اس امر کے بیان کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا کہ وفور جذبات سے اس وقت مجھے یقین تھا کہ اگر میں نے بات کی یا وہاں ٹھہرا رہاتو آنسو میری آنکھوں سے ٹپک پڑیں گے۔اس لئے میں نے فور آمنہ پھیر لیا اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل دیا کہ بوٹ اپنی امی جان کے پاس لے جاؤ۔ہمارے گھر میں سب بچے اپنی ماؤں کو خالی امی اور میری بڑی بیوی کو امی جان کہتے ہیں۔میں نے جاتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو امتہ النصیر اپنے جذبات پر قابو پا چکی تھی۔وہ نہایت استقلال سے بوٹ اٹھائے اپنی امی جان کی طرف جارہی تھی۔بعد کے حالات نے اس امر کی تصدیق کر دی کہ وہ اپنی والدہ کی وفات کے حادثہ کو باوجود چھوٹی عمر کے خوب سمجھتی ہے۔چنانچہ اس کے ایک بھائی نے اُسے دق کیا اور پھر اپنے ظلم کو اور زیادہ سنگین بنانے اور اس کے دل کو دکھانے کی نیت سے اسے کہا کہ تم میرے اس چھیڑنے کی شکایت اپنی امی سے کردگی نہ اس نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا کہ نہیں بھائی۔میں اپنی امی سے شکایت نہیں کر سکتی۔”خدا کی پچھم (خدا کی قسم میری امی تو اللہ میاں کے پاس چلی گئی ہیں وہ تو اب کبھی واپس نہیں آئیں گی"۔یہ گفتگو مجھے گھر کے ایک اور بچے نے سنائی اور مجھے یقین ہو گیا کہ امتہ النصیر موت کی حقیقت کو جانتی ہے اس کا فعل صابرانہ فعل ہے اور وہ اپنی ماں کی سچی یاد گار ہے وہ حقیقت کو جانتے ہوئے اپنے دل پر قابو پا سکے ہوئے ہے "۔اس۔سید ناحضرت خلیفتہ المسیح کی شہادت ایک مقدمہ میں مرزا اکرم بیگ اور ان کی والدہ سردار بیگم صاحبہ بیوه مرز افضل بیگ صاحب) نے ۱۹۲۰ء میں اپنی پوری جائداد واقع قادیان حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور حضرت مسیح موعود کے دوسرے صاحبزادگان کے نام ایک لاکھ ۴۸ ہزار روپیہ پر فروخت کر دی تھی جس میں سے بعد کو بہت سے احباب جماعت نے حصے خرید کئے تھے۔ایک معتد بہ حصہ پر لاکھوں روپے