تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 92
۹۲ تاریخ احمدیت جلد ۶ تین اشخاص داخل سلسلہ ہوئے۔2 ۲۱۰ مباحثہ آنبہ (ضلع شیخوپورہ) آنبہ میں ملک عبد الرحمن خادم اور مولوی محمد سلیم صاحب نے ۲۸-۲۷ اور ۲۹/ فروری کو مولوی محمد حسین صاحب پنڈی بہاء الدین حافظ احمد الدین صاحب لگھڑوی اور مولوی نور حسین صاحب گر جا کبھی سے چار مناظرے کئے۔پہلے مناظرہ میں خود غیر احمدیوں نے اپنے مناظر صاحب کو وقت ختم ہونے سے پہلے ہی بٹھا دیا۔دوسرے مناظرے میں ایک معزز سکھ سردار نے غیر احمدیوں سے کہا کہ آپ کے مناظر کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔مباحثہ لاہور: یہ نہایت کامیاب مناظرہ تھا۔جو ملک عبد الرحمن صاحب خادم نے ۲-۳ / مارچ ۱۹۳۲ء کو پہلے پادری ٹھاکر داس صاحب ایم۔اے پھر پادری سلطان محمد پال ایڈیٹر ” نور افشاں" سے کیا۔تمام حاضرین جن میں غیر مسلم بھی شامل تھے خادم صاحب کے دلائل سے حد درجہ متاثر ہوئے۔اور غیر احمدی اصحاب تو اس درجہ خوش تھے کہ بے اختیار نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے۔Fir مباحثہ رو پڑا پڑ ضلع انبالہ ) یہاں ۲۰-۲۱/ مارچ ۱۹۳۲ء کو ملک عبد الرحمن صاحب خادم اور مولوی محمد سلیم صاحب کا غیر احمدی عالم مولوی محمدابراہیم صاحب سیالکوٹی اور مولوی احمد دین صاحب کے ساتھ مناظرہ ہوا۔ایک شخص نے اسی وقت اعلان بیعت کر دیا۔2 مباحثہ سیدو باغ (سندھ) ۲۶ - ۲۷/ مارچ ۱۹۳۲ء کو شیخ مبارک احمد صاحب فاضل اور مولوی محمد سلیم صاحب فاضل نے وفات مسیح اور صدق مسیح موعود پر مناظرے کئے غیر احمد یوں کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب کو لو تار روی پیش ہوئے مناظرہ کے بعد ایک صاحب داخل سلسلہ احمدیہ ہوئے۔مباحثہ وزیر آباد : یہاں مولوی محمد سلیم صاحب کا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے ۱۰/ اپریل کو مباحثہ ہوا۔مناظرہ میں اہلحدیث نے یہ عجیب شرط رکھی کہ ان کے لئے کسی اپنے امام کا قول بھی حجت و سند نہیں ہے اس لئے وہ پیش نہ کیا جائے مولوی محمد سلیم صاحب نے قرآن مجید سے معیار صداقت پیش کر کے صداقت مسیح موعود کا ثبوت دیا مگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے کسی دلیل کو چھونے کی بھی جرات نہ کی مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر "زمیندار" خلاف اصول اپنے مناظر کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے تو ملک عبد الرحمن صاحب خادم نے ان کی تقریر کا دندان شکن جواب دیا۔مباحثہ کے آخر میں اہلحدیث نے دلائل کی تاب نہ لاکر شور مچا -