تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 91 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 91

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ 91 کے خلاف مقدمہ تنسیخ نکاح میں بطور گواہ مد عاعلیہ عدالت بہاولپور میں دیا - 221 تقسیمات المیہ: (مولانا ابو العطاء صاحب بمالندھری کی تصنیف) اس کتاب میں مولانا صاحب نے نئے اسلوب و انداز میں غیر مسلموں کے ان اعتراضوں کے جوابات تحریر فرمائے جو سورہ فاتحہ کی نسبت عام طور پر کئے جاتے تھے۔- اسلام کی پہلی کتاب : چوہدری محمد شریف صاحب فاضل نے ۱۹۳۲ء و ۱۹۳۶ء میں احمدی بچوں کے لئے نہایت سادہ اور آسان زبان میں ایک سلسلہ کتب جاری کیا جو پانچ حصوں میں شائع کیا گیا جسے بزرگان سلسلہ نے بہت پسند فرمایا۔" تحقیق واقعات کربلا - ( تالیف حضرت منشی خادم حسین صاحب خادم بھیروی ) سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس کتاب کی نسبت سالانہ جلسہ ۱۹۳۲ء میں فرمایا۔بہت اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے۔خادم صاحب کا طرز تحریر ایسا ہے کہ شیعہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے سخت لکھا۔بلکہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا کلام بہت نرم اور میٹھا ہوتا ہے وہ جو کچھ لکھتے ہیں احمدیت کی روشنی میں لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں "۔" مکمل تبلیغی پاکٹ بک : ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی کی شاندار تصنیف جسے تبلیغی انسائیکلو پیڈیا کہنا چاہئے۔تبلیغ پر زور دینے کی وجہ سے اس سال ملک میں اندرون ملک کے مشہور مناظرے کثرت سے مناظرے ہوئے جن میں سے سولہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔مباحثہ مجوکہ : مجو کہ ضلع سرگودھا میں ۱۸-۱۹-۲۰/ فروری ۱۹۳۲ء کو مباحثہ ہوا۔جس میں حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری۔مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور مولوی عبد الاحد صاحب احمدی مناظر شامل ہوئے۔مباحثہ کے اختتام پر ۵۲ افراد نے بیعت کرلی غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی محمد مسعود البردی اور مولوی محمد حسین صاحب کو لو تار روی وغیرہ دس علماء شریک بحث تھے۔مباحثه ویٹر چک نمبر ۱۲۹ ضلع شیخو پوره) ۲۵-۲۶/ فروری ۱۹۳۲ء کو یہاں ملک عبدالرحمن صاحب خادم نے مسئلہ وفات مسیح و صداقت مسیح موعود پر مباحثہ کیا غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب گوندلا نوالہ - مولوی محمد مسلم صاحب اور مولوی نور شاہ صاحب مناظر تھے۔وقت مناظرہ ابھی باقی تھا کہ غیر احمدی علماء میدان مناظرہ سے چل دیئے۔اس مناظرہ میں