تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 49
ریخ احمدیت۔جلد ۵ 49 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں۔فصل سوم سفر ڈلہوزی اور حضرت مرزا بشیر احمد سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بحالی صحت کے صاحب کا پہلی بار امیر مقامی مقرر ہونا لئے عموماً ہر سال کسی صحت افزا مقام کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے۔چنانچہ اس سال بھی حضور ۲۱ / جون ۱۹۲۸ء کو ڈلہوزی تشریف لے گئے اور حضور نے اپنے بعد پہلی بار حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو امیر مقامی مقرر فرمایا۔اس موقعہ پر حضرت میاں صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ” میں اپنی بہت سی کمزوریوں کی وجہ سے اس عہدہ کا اہل نہیں ہوں مگر حضور نے اپنے فیصلہ میں تبدیلی مناسب نہ سمجھی اور یہ بار آپ ہی کو اٹھانا پڑا۔اپنے زمانہ امارت میں آپ کو بعض احباب کی طرف سے ایسی درخواستیں موصول ہو ئیں کہ فلاں ناظر صاحب نے یہ فیصلہ کیا ہے اسے منسوخ کیا جائے یا مجلس معتمدین کا فلاں ریزولیوشن قابل منسوخی ہے یا یہ کہ فلاں معاملہ میں یہ حکم جاری کیا جائے حالانکہ وہ ایسا معاملہ تھا جس میں صرف ناظر متعلقہ یا مجلس یا خلیفہ وقت ہی حکم صادر فرما سکتے تھے۔اس قسم کی باتوں سے آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ابھی تک جماعت کو مقامی امیر کی پوزیشن کا صحیح علم نہیں ہے لہذا آپ نے ایک مفصل اعلان شائع کیا جس میں احباب کی اس غلط فہمی کا ازالہ کر کے پوری وضاحت فرمائی کہ مقامی امیر اگر چہ اپنے حلقہ میں حضرت امام کا قائم مقام ہو تا ہے۔مگر اس کی پوزیشن ایسی ہے ، جیسے کہ دوسرے مقامات کے مقامی امیروں کی ہوتی ہے۔گو مرکز کی اہمیت کی وجہ سے اس کی ذمہ داری دوسرے امراء سے زیادہ ہے لیکن بہر حال وہ ایک مقامی امیر ہے جو ناظران سلسلہ ہی کے ماتحت ہو تا ہے اس کا حلقہ امارت صرف مرکزی جماعت تک ہے دوسری جماعتوں کے ساتھ اس کا کوئی انتظامی تعلق نہیں ہو تا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ۱۹۲۸ء کے بعد بھی کئی بار امیر مقامی مقرر ہوئے اور آپ نے نہ صرف اپنے زمانہ امارت میں بلکہ پوری زندگی میں ہمیشہ اطاعت امام کا ایک بے مثال نمونہ دکھایا۔چنانچہ آپ کے سوانح نگار محترم شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ نے اپنی تالیف ”حیات بشیر" کے تیسرے باب میں آپ کی مقدس زندگی کے متعدد واقعات درج کئے ہیں جن سے قطعی طور پر