تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 50
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 50 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال یہ شہادت ملتی ہے۔کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کو وابستگی خلافت اور اطاعت امام کے لحاظ سے جو بلند مقام خلافت اولی میں حاصل تھا وہ خلافت ثانیہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور متابعت کے رنگ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو نصیب ہوا۔اس سلسلہ میں مکرم مرزا مظفر احمد صاحب کا مندرجہ ذیل بیان خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔فرماتے ہیں: " ابا جان حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے بھی بے حد محبت کرتے تھے۔اور حضور کے خلافت پر فائز ہونے کے بعد اپنا جسمانی رشتہ اپنے نئے روحانی رشتہ کے ہمیشہ تابع رکھا دینی معاملات کا تو خیر سوال ہی کیا تھا دنیاوی امور میں بھی یہی کوشش فرماتے تھے کہ حضور کی مرضی کے خلاف کوئی بات نہ حضور کی تکریم کے علاوہ کمال درجہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نمونہ پیش کرتے تھے۔میں نے اس کی جھلکیاں بہت قریب سے گھریلو ماحول میں دیکھی ہیں آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کا رنگ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہ نبض دل کے تابع ہو عمر بھر اس تعلق کو کمال وفاداری سے نبھایا اور اس کیفیت میں کبھی کوئی رخنہ پیدا نہ ہونے دیا۔۔۔۔۔۔حضور کا سلوک بھی ابا جان سے بہت شفقت کا تھا اور ہمیشہ خاص خیال رکھتے تھے اور اہم معاملات میں مشورہ بھی لیتے تھے۔ضروری تحریرات خصوصاً جو گورنمنٹ کو جانی ہوتی تھیں ان کے مسودات ابا جان کو بھی دکھاتے تھے۔اور اس کے علاوہ اہم فیصلہ جات اور سکیم پر عمل در آمد کا کام اکثرا با جان کے سپرد کرتے تھے۔اور اس بات پر مطمئن ہوتے تھے کہ یہ کام حسب منشاء اور خوش اسلوبی سے ہو ہو۔جائے گا "۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی اطاعت امام سے متعلق ایک مختصر نوٹ دینے کے بعد۔اب ہم سفر ڈلہوزی کی طرف آتے ہیں۔یہ سفر جو بظا ہر آب و ہوا کی تبدیلی کی غرض سے حسب معمول گوناگوں مصروفیات میں گزرا۔اوسطاً ڈیڑھ دو سو خطوط کا روزانہ پڑھنا اور اس کا جواب لکھوانا۔سلسلہ کے انتظامات و معاملات کی نسبت ہدایات جاری کرنا ، خطبات جمعہ علمی تحقیق کا کام غرضکہ جس پہلو سے بھی دیکھا جائے یہ زمانہ علمی سرگرمیوں کا زمانہ تھا۔اس سلسلہ میں بعض اہم واقعات کا ذکر کرنا مناسب ہو گا۔۳۰/ جون ۱۹۲۸ء کو حضور نے پہلی دفعہ ۴۵ کے قریب عربی اشعار کہے۔۶ / جولائی ۱۹۲۸ء کو اخبار ٹائمز آف انڈیا کے نام ایک چٹھی لکھوائی جس میں اخبار کے ایک الازار فقرہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے معذرت شائع کرنے اور آئندہ ازواج النبی ﷺ کی نسبت احتیاط سے قلم اٹھانے کی تاکید