تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 47
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 47 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال ۱۹۲۹ء کے ایک اشتہار کا نمونہ دنیا کا محسن کسی اہل بصیرت مسلمان سے پوشیدہ نہیں کہ فی زمانہ کچھ ہماری غفلتوں اور علمی و عملی کمزوریوں کے باعث اور کچھ مخالف کے خلاف واقعہ طرز عمل کے ماتحت امام المتقین سید المعصومین حضرت محمد رسول اللہ ہی کی پاک سیرت نہ صرف دوسرے اہل مذہب بلکہ خود مسلمانوں کی آنکھوں سے بھی اوجھل ہو چکی ہے۔اس لئے اشد ضرورت اس بات کی ہے۔کہ حضور سرور عالم کی سیرت صحیحہ سے دنیا جہان والوں کو آگاہ کیا جاوے۔تاکہ وہ حقیقت کو پا کر اتباع ظن کے گناہ اور اس کے زہر سے محفوظ ہو جاویں۔اسی غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ سال حضرت امام جماعت احمدیہ نے یہ مبارک تحریک کی تھی۔کہ ایک ہی تاریخ مقررہ پر ہندوستان کے گوشے گوشے میں جلسے منعقد کر کے آنحضرت کی پاکیزہ زندگی حضور" کے دنیا پر احسانات اور آپ کی قربانیاں قرآن کریم اور صحیح تاریخ سے بیان کی جائیں۔چنانچہ یہ تحریک بڑی حد تک کامیاب اور مفید ثابت ہوئی۔تو کل کرتے ہوئے امسال یہ ایک مزید تجویز کی گئی ہے۔کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ ممالک غیر یورپ امریکہ - افریقہ وغیرہ وغیرہ میں بھی ۲ / جون ۱۹۲۹ء کو ایسے جلسے منعقد کئے جائیں اسی دن تمام دنیا میں مختلف زبانوں میں آنحضرت کی پاک سیرت پر لیکچر ہوں۔پس اسی اصول پر انتظام کیا گیا ہے۔کہ جہلم میں ۲ / جون ۱۹۲۹ء کو بوقت پانچ بجے شام ہمقام حویلی گھاٹ ایک جلسہ زیر صدارت جناب میجر نواب ملک طالب مهدی خان صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر منعقد ہو گا۔جس میں مسلم اور غیر مسلم اصحاب دو مضامین یعنی (1) "رسول کریم کا غیر مذاہب سے عالمہ بلحاظ تعلیم و تعامل"۔(۲) تو حید باری تعالٰی کے متعلق رسول کریم کی تعلیم " پر لیکچر دیں گے۔امید ہے کہ رواداری اور وسیع النظری سے کام لے کر ہر علمی مذاق کا شائق طبقہ جلسہ میں شامل ہو کر اپنی بہتری اور بہبود کے ذرائع پر غور کرے گا۔ان جلسوں کی غرض و غایت یہ ہے کہ لیکچروں اور خوش آئند تقریروں کے ذریعہ لاکھوں ان پڑھ یا غفلت اور ستی کی وجہ سے خود مطالعہ سے معذور مسلمان اس دن تھوڑا سا وقت صرف کر کے رسول کریم کی ذات والا صفات کے متعلق کافی واقفیت حاصل کرلیں گے۔اور ضمنا غیر مسلم صاحبان پر جب