تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 46
تاریخ احمدیت جلد ۵ 46 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال رسول کریم اللہ کی عظمت کے قیام کے لئے کوشش کر سکے وہ۔۔۔۔۔اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کا ذمہ دار ہے۔یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کا یہ عقیدہ تھا کہ غیر احمدی اصحاب ختم نبوت کے منکر ہیں۔اور یہ کہ نئے اور پرانے نبی کی آمد کے عقیدوں میں نتیجہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں چنانچہ مولوی صاحب نے اپنے رسالہ " دعوۃ عمل " میں لکھا تھا۔" قرآن شریف تو نبوت کو آنحضرت ا پر ختم کرتا ہے مگر مسلمانوں نے اس اصولی عقیدہ کے بالمقابل یہ خیال کر لیا کہ ابھی آنحضرت ا کے بعد حضرت عیسی جو نبی ہیں۔وہ آئیں گے اور یہ بھی نہ سوچا کہ جب نبوت کا کام تکمیل کو پہنچ چکا اور اسی لئے نبوت ختم ہو چکی تو اب آنحضرت کے بعد کوئی نبی کس طرح آ سکتا ہے خواہ پر انا ہو یا نیا۔نبی جب آئے گا نبوت کے کام کے لئے رانا آئے گا۔اور جب نبوت کا کام ختم ہو گیا تو نبی بھی نہیں آسکتا پر انے اور نئے سے کچھ فرق نہیں پڑتا پھر لکھا: "مسلمانوں نے عقیدہ بنالیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام جنہوں نے آنحضرت ا سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلیم حاصل کی ہے۔وہ اس امت کے معلم بنیں گے اور یوں آنحضرت کی شاگردی سے یہ امت نکل جائے گی۔( دعوت عمل " صفحه ۱۲- ۱۳ شائع کردہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ اقتباس درج کرنے کے بعد مندرجہ بالا مضمون میں تحریر فرمایا : اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اول مولوی صاحب کے نزدیک عام مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے عقیدہ کے مقابل پر ہے یعنی متضاد اور مخالف ہے دوم مولوی صاحب کے نزدیک یہ عقیدہ کہ کوئی پرانا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی نیا نبی آئے گا دونوں میں کچھ فرق نہیں یہ دونوں عقید نے عمل ختم نبوت کے عقیدہ کو رد کرنے والے ہیں سوم مسلمانوں کے عقیدہ نزول مسیح کے رو سے امت محمدیہ امت محمدیہ نہ رہے گی۔یعنی رسول کریم ﷺ کی نبوت ختم ہو جائے گی۔۔۔کیا یہ غضب نہیں کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تو مولوی صاحب کے نزدیک تمام مسلمان ختم نبوت کے منکر تھے۔اور ان کے عقائد امت محمدیہ کو آنحضرت کی امت سے نکال رہے تھے لیکن ۱۷ جون کے جلسہ کی تحریک کا ہو نا تھا کہ انہیں معلوم ہو گیا کہ سب مسلمان تو ختم نبوت کے قائل ہیں اور یہ مبائع احمد کی ختم نبوت کے منکر ہیں "۔