تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 45
تاریخ احمدیت جلد ۵ 45 خلافت ثانیہ کا پند میرے نزدیک رسول کریم اے خاتم انسین ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میرا یہی عقیدہ ہے اور انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ موت تک اس عقیدہ پر قائم رہوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے محمد رسول اللہ ا کے خدام کے زمرہ میں کھڑا کرے گا اور میں اس دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی غلیظ سے غلیظ قسم کھاتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ اگر میں دل میں یا ظاہر میں رسول کریم ﷺ کے خاتم انسین ہونے کا منکر ہوں اور لوگوں کو دکھانے کے لئے اور انہیں دھوکہ دینے کے لئے ختم نبوت پر ایمان ظاہر کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی لعنت مجھ پر اور میری اولاد پر ہو اور اللہ تعالیٰ اس کام کو جو میں نے شروع کیا ہوا ہے تباہ و برباد کر دے۔میں یہ اعلان آج نہیں کر تا بلکہ ہمیشہ میں نے اس عقیدہ کا اعلان کیا ہے اور سب سے بڑا ثبوت اس کا یہ ہے کہ میں بیعت کے وقت ہر مبائع سے اقرار لیتا ہوں کہ وہ رسول کریم اللہ ﷺ کو خاتم انسین یقین کرے گا۔مولوی صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی مانتا ہوں اس لئے ثابت ہوا کہ میں رسول کریم اللہ کے خاتم انسین ہونے کا منکر ہوں کیونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسا نبی ہرگز نہیں مانتا کہ ان کے آنے سے رسول کریم اے کی نبوت ختم ہو گئی ہو۔اور آپ کی شریعت منسوخ ہو گئی ہو بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے اور ہر ایک جس نے میری کتب کو پڑھا ہے یا میرے عقیدہ کے متعلق مجھ سے زبانی گفتگو کی ہے جانتا ہے کہ میں حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کو رسول کریم ﷺ کا ایک امتی مانتا ہوں اور آپ کو رسول کریم ﷺ کی شریعت اور آپ " کے احکامات کے ایسا ہی ماتحت مانتا ہوں جیسا کہ اپنے آپ کو یا کسی اور مسلمان کو بلکہ میرا یہ یقین ہے کہ مرزا صاحب رسول کریم کے احکامات کے جس قدر تابع اور فرمانبردار تھے اس کا ہزارواں حصہ اطاعت بھی دوسرے لوگوں میں نہیں ہے اور آپ کی نبوت علی اور تابع نبوت تھی۔جو آپ کو امتی ہونے سے ہر گز باہر نہیں نکالتی تھی۔اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ آپ کو جو کچھ ملا تھا وہ رسول کریم کے ذریعہ اور آپ کے فیض سے ملا تھا۔پس باوجود اس عقیدہ کے میری نسبت یہ کہنا کہ میں چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتا ہوں اس لئے گومنہ سے کہوں کہ رسول کریم اے خاتم انسین ہیں میں جھوٹا اور دھوکہ باز ہوں۔خود ایک دھوکہ ہے۔حضور نے اپنے اس مضمون کے آخر میں لکھا: حق یہ ہے کہ گو ہم میں سے ہر ایک کا یہ حق ہے کہ وہ دوسرے کی نسبت یہ کہہ دے کہ اس کا عقیدہ حقیقت ختم نبوت کے منافی ہے لیکن جو شخص کہتا ہے کہ مسلمانوں میں سے کوئی فرقہ بھی ایسا ہے کہ وہ ختم نبوت کا ایسے رنگ میں منکر ہے کہ اس کا حق ہی نہیں کہ وہ دوسرے مسلمانوں سے مل کر