تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 686 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 686

تاریخ احمدیت۔جلده 658 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ انتظام کی کوئی اطلاع بھیج سکے اور نہ ہی ان سابق کارکنوں کے خوردونوش اور رہائش اور کام کے لئے کوئی بندوبست کر سکے اور نہ اپنی طرف سے متبادل مالی اور قانونی امداد کشمیر میں بھیج سکے جس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلا کہ سابق وکلاء اور کارکن کام سے واپس آنے پر مجبور ہو گئے۔جب نئی کشمیر کمیٹی نے اپنی کمزوری محسوس کی تو اس کے عارضی سیکرٹری ملک برکت علی صاحب نے ایک بیان اخبارات میں شائع کرایا کہ شیخ بشیر احمد احمدی وکیل اور کارکنوں نے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے استعفیٰ کے بعد کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور یہ غلط فہمی بھی پھیلائی کہ مرزا صاحب نے وکلاء اور کارکنوں کی واپسی کی رایات بھجوادی ہیں جب یہ بیان اخبارات میں شائع ہو ا تو شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کی طرف سے مفصل تردیدی بیان شائع ہوا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ درست ہے کہ میں نے کشمیر میں جو خدمات کیں اپنے مقدس امام کی اطاعت میں کیس مگر یہ بالکل غلط ہے کہ ہمارے مقدس امام نے مجھے یا دیگر کارکنان کو واپس آنے کی ہدایات بھیجی تھیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جب نئی کشمیر کمیٹی کی طرف سے ہمیں کوئی ہدایت موصول نہ ہوئی اور توجہ دلانے کے باوجود اس نے مکمل سکوت اختیار کر لیا۔تو ہم نے ایک تار اپنے مقدس امام کو اپنے موجودہ کام کے بارے میں ہدایت طلب کرنے کی غرض سے بھیجا جس کا جواب آیا کہ ہم کام کو جاری رکھیں تا آنکہ نئے عہدیدار اپنے طریق کار کا فیصلہ نہ کرلیں۔مقدمات کے ملزموں کو جب اندرون کشمیر نئے حالات کی اطلاع کر دی گئی تو انہوں نے نئی کشمیر کمیٹی اور علامہ اقبال کے نام خطوط اور تاریں بھیجیں لیکن وہ بے اعتنائی کی نذر ہو گئیں اور انہیں کوئی جواب نہ ملاشیخ بشیر احمد صاحب نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ جب میں واپس جانے پر مجبور ہوا۔اور گوجر انوالہ پہنچاتو مجھے امام جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ ہدایت موصول ہوئی کہ میں میر پور جاؤں مگر میں بوجہ لاہور میں ناگزیر۔ذمہ داریوں کے تعمیل ارشاد سے قاصر رہا۔یہ امر کہ میرے رفیق کار برادرم چوہدری یوسف خاں مقدمہ علی بیگ میں اب تک ملزمان کی طرف سے پیروی کر رہے ہیں اس احترام کے بطلان کے لئے کافی ہے کہ امام جماعت احمدیہ نے ہمیں مقدمات سے واپسی کا حکم دیا۔اس بیان سے ظاہر ہے کہ استعفیٰ کے بعد بھی باوجود اس کے کہ استعفاء میں مبینہ حالات کے تحت آپ نے واضح کر دیا تھا کہ استعفیٰ کے بعد کمیٹی سے میرا کسی طرح تعاون کرنا بھی درست نہ ہو گا) امام جماعت احمدیہ نے حتی المقدور نئی کشمیر کمیٹی سے تعاون کیا مگر نئی کشمیر کمیٹی کام نہ چلا سکی علامہ اقبال ایک اجلاس کے بعد ہی مستعفی ہو گئے اور کمیٹی کو تو ڑ دیا " -