تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 687 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 687

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 659 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ فصل دوم کشمیر کمیٹی کا احیا " آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن کی شکل میں چونکہ کشمیر کمیٹی کے عارضی صدر صاحب مستعفی ہو چکے تھے اور عارضی سیکرٹری صاحب نے استعفیٰ دیئے بغیرہی اپنے فرائض و واجبات کو اور جماعتی آداب و قواعد کو پس پشت ڈال کر نئی کمیٹی میں سیکرٹری شپ کا عہدہ قبول کر لیا تھا اس لئے پرانی کمیٹی عملاً معطل و مفلوج ہو کے رہ گئی لہذا چار ممبروں کے دستخطوں سے ایک گشتی مراسلہ مختلف ممبران کمیٹی کی خدمت میں بھیجا گیا کہ آیا ان حالات میں پرانی کمیٹی کو قائم رکھا جائے یا اسے توڑ دیا جائے کمیٹی کے کل تریسٹھ ممبر تھے جن میں سے گیارہ یا بارہ ممبر غیر جانبدار رہے باقی بادن میں سے انہیں نے اپنی رائے سے اطلاع نہ دی۔اور ۳۲ ممبروں نے قدیم کشمیر کمیٹی پر اظہار اعتماد کیا۔اور ۳ ستمبر ۱۹۳۳ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے زیر صدارت (لورینگ ہوٹل لاہور میں فیصلہ کیا گیا کہ اتحاد اتفاق قائم رکھنے کے لئے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اور خان بہادر حاجی رحیم بخش صاحب کو علی الترتیب (قدیم) آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت اور سیکرٹری شپ کے عہدے پیش کئے جائیں اور نئے عہدیداروں کے تقریر کا آخری فیصلہ ہونے تک حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، مولانا سید حبیب صاحب ، مولانا غلام رسول صاحب مہر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور چوہدری غلام مصطفیٰ صاحب بیرسٹر گوجرانوالہ پر مشتمل ایک سب کمیٹی مقرر کر دی گئی اسی عرصہ میں چونکہ ڈاکٹر سر محمد اقبال اور خان بهادر رحیم بخش صاحب نے قدیم کشمیر کمیٹی میں شرکت سے صاف انکار کر دیا اس لئے ۲۵/ مارچ ۱۹۳۴ء کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اجلاس لاہور میں قرار پایا کہ زعمائے کشمیر سے استصواب کیا جائے کہ کشمیر کمیٹی جن اصولوں پر پہلے کام کرتی رہی ہے انہی اصولوں پر دوبارہ کام کرنا ان کے لئے مفید ہو گا یا نہیں ؟ شیخ محمد عبد اللہ صاحب (شیر کشمیر) ا شیخ عبد الحمید صاحب (ایڈووکیٹ جموں) مولوی محمد سعید صاحب (مسعودی) اور مفتی ضیاء الدین صاحب آف پونچھ نے بالا تفاق یہ کہا کہ جو جماعت ہماری امداد کے لئے ہاتھ بڑھائے گی ہم اس سے امداد لینے کو تیار ہیں اور خصوصاً موجودہ حالات میں ہمیں مدد کی سخت ضرورت ہے اور مدد کی نوعیت یہ بتائی کہ اول گورنمنٹ انڈیا پر زور ڈالا جائے دو سرے ہماری مالی اعانت کی جائے تیسرے فرنچائز رپورٹ میں جو حق نمائندگی مسلمانوں کو دیا گیا ہے وہ بہت تھوڑا ہے اس کے لئے کوشش کی جائے کہ کم از کم ساٹھ فیصدی مسلمانوں کو حق نیابت دیا جائے۔