تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 685
تاریخ احمدیت جلد ۵ 657 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ را کے حکم سے سر ظفر اللہ اور شیخ بشیر احمد و چودھری اسد اللہ و غیرہ وکلاء مقدمات کی پیروی کے لئے آتے رہے بلکہ مستقل طور پر بعض سرینگر ، میرپور نو شہرہ و جموں میں رہ کر کام کرتے رہے ان کے طعام و قیام وغیرہ کے تمام اخراجات بھی میاں صاحب بھیجتے رہے۔ان کے مستعفی ہونے کے بعد نہ دفتر ر ہے نه مستقل و کلاء ہی رہے ایک بار سرینگر کے ایک کیس میں جبکہ میں شیخ صاحب کی گرفتاری پر قائم مقام صدر مسلم کانفرنس تھا میرے لکھنے پر انہوں نے بہار کے وکیل سرکار انعام الحق صاحب کو سرینگر میں بحث کرنے کے لئے روانہ فرمایا چند دن رہے اور ہائیکورٹ میں بحث فرما کر واپس چلے گئے"۔جناب پروفیسر علم الدین صاحب سالک (پر وفیسر اسلامیہ کالج لاہور) کا بیان ہے:- حکومت کشمیر کی طرف سے ایک بااثر پیر صاحب آئے دن کشمیر سے آکر لاہور کی مسجد غوشیہ میں فروکش رہتے تھے وہ یہاں کشمیر کمیٹی کے خلاف سازش کرتے رہتے تھے اس نے احرار نیشلسٹ مسلمانوں سے مل کر اور دیگر اپنے کام کے آدمیوں کی معرفت کشمیر کمیٹی کے ممبروں تک راز داری کے ساتھ رسائی حاصل کر کے تفرقہ و انتشار کا بیج ہویا۔اور ڈاکٹر محمد اقبال کو بھی بیچ میں گانٹھ لیا۔اسی تفرقہ اندازی کاری نتیجہ تھا کہ فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکا کر احمدی اور غیر احمدی کا سوال بڑے زور سے اٹھایا گیا چنانچہ اندر ہی اندر یہ تحریک چلائی گئی کہ کشمیر کمیٹی کا صدر غیر قادیانی ہونا چاہئے تاکہ کمیٹی اطمینان کے ساتھ صحیح معنوں میں کام کر سکے۔اس خفیہ تحریک کو اس طرح بروئے کار لایا گیا کہ کمیٹی کے ممبران سے یہ مطالبہ شروع کر دیا گیا کہ کمیٹی کا نیا انتخاب ہونا چاہئے امام جماعت احمدیہ کو اس ساری کارروائی کا پتہ چل گیا۔اور اسی دوران میں بعض ممبران کی طرف سے وہ بیان سول اینڈ ملٹری گزٹ " میں شائع کرایا گیا جس کا حوالہ امام جماعت احمدیہ نے اپنے استعفیٰ میں دیا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ امام جماعت احمدیہ نے استعفیٰ دے دیا اور اس طرح حکومت کشمیر اور ہندو قوم کے راستہ سے بزعم ان کے وہ کانٹا دور ہو گیا جس نے ہمالیہ کے پہاڑوں سے لیکر انگلستان و امریکہ کے درو دیوار تک ان کے ناک میں دم کر رکھا تھا جس نے حکومت کشمیر کو صدیوں کے جبرو استبداد کے راستہ میں چٹان بن کر تھوڑے عرصہ میں ہی ایسا انقلاب پیدا کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں حکومت کشمیر مسلمانان کشمیر کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی تھی اور اسے عوام کو مطلوبہ حقوق دینے پڑے تھے۔ادھر امام جماعت احمدیہ نے کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا ادھر اندرون کشمیر جو کام چل رہا تھا اس میں یکا یک تعطل پیدا ہو گیا۔اور ایک عام بے چینی پھیل گئی کیونکہ وہاں پکڑ دھکڑ جاری ا تھی اور اس سلسلہ میں ان کی مالی اور قانونی امداد جو صدر کشمیر کمیٹی کی طرف سے جاری تھی بند ہو گئی اور نئے عہدیداران اندرون کشمیر کام کرنے والے سابق وکلاء اور کارکنوں کو نہ نئے انتخاب اور نئے