تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 42 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 42

تاریخ احمدیت جلد ۵ 42 خلافت ثانیہ کا پندر رئیس نے کہا کہ آج تک ہم مسلمانوں کا ایمان رسول اللہ ا ی کی نسبت و ر ر ہ کا تھا اب آپ کے حالات زندگی سن کر ایمان کامل حاصل ہوا۔بعض غیر مسلم اصحاب نے بھی کہا کہ " ہمیں علم نہ تھا کہ بانی اسلام میں ایسے کمالات ہیں اب معلوم ہوا ہے کہ وہ بے نظیر انسان تھے "۔ساتواں فائدہ : ان جلسوں کا یہ ہوا کہ اس سے ملکی اتحاد پر نہایت خوشگوار اثر پڑا۔اور یہ ایسی واضح حقیقت تھی کہ بعض مشہور مسلم و غیر مسلم لیڈروں نے اس کا اقرار کیا۔چنانچہ سر شیخ عبد القادر صاحب نے لاہور کے جلسہ کی صدارتی تقریر میں حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا حاضرین کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔” یہ مبارک تحریک نہایت مفید ہے جس سے ہندوستان کی مختلف اقوام میں رواداری پیدا ہو کر باہمی دوستانہ تعلقات پیدا ہوں گے اور ملک میں امن و اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔کلکتہ میں سرپی سی رائے صاحب نے بحیثیت صدر تقریر کرتے ہوئے کہا ایسے جلسے جیسا کہ یہ جلسہ ہے ہندوستان کی مختلف اقوام میں محبت اور اتحاد پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔اسی طرح اینگلو انڈین کمیونٹی کے مشہور لیڈر ڈاکٹر ایچ بی مانروا صاحب نے کہا۔” میں نے بار جود اپنی بے حد مصروفیتوں کے اس جلسہ میں آنا ضروری سمجھا کیونکہ اس قسم کے جلسے ہی اس اہم سوال کو جو اس وقت ہندوستان کے سامنے ہے (یعنی ملک کی مختلف اقوام میں اتحاد) صحیح طور پر حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور اسلام میں متحد کرنے کی طاقت ایک تاریخی بات ہے غرضکہ ہندو مسلم اور عیسائی لیڈروں نے تسلیم کیا کہ اقوام ہند میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے اس قسم کے جلسے نہایت مفید ہیں۔IPA- سیرت النبی کے شاندار جلسوں کی تفصیلات پر روشنی ڈالنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض دوسرے امور کو جن کا ذکر ابھی تک اجمالی صورت میں آیا ہے مزید وضاحت کے ساتھ کر دیا جائے۔قادیان میں جلسہ سیرت النبی اللہ " جماعت احمدیہ کا مرکز ہونے کی وجہ سے قادیان کا جلسہ اپنے اندر مرکزی شان رکھتا تھا۔جس میں احمد ہی اصحاب کے علاوہ غیر احمدی مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی لوگ بڑی کثرت سے شامل ہوئے جلسہ گاہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے سامنے کھلے میدان میں شامیانے نصب کر کے بنائی گئی۔جس میں دلاویز قطعات آویزاں تھے اور جسے اچھی طرح سجایا گیا تھا عورتوں کے لئے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں جلسہ کا علیحدہ انتظام تھا۔جو حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی صدارت میں بڑی کامیابی سے ہوا۔شائع شدہ پروگرام کے مطابق صبح ایک جلوس مرتب کیا گیا جو قریبا دس پارٹیوں پر مشتمل تھا۔غیر احمدی مسلمانوں کی الگ پارٹیاں تھیں اور۔