تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 43
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 43 خلافت مانیہ کا بند کر ایک پارٹی جاوی اور سماٹری طلبہ کی تھی جو حضرت مسیح موعود کا عربی نعتیہ کلام پڑھ رہی تھی باقی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اردو نظمیں اور ہندو شعراء کی نعتیں پڑھ رہی تھیں۔یہ شاندار جلوس ، بجے کے قریب تعلیم الاسلام ہائی سکول کے میدان سے روانہ ہوا۔اور حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی کے سامنے سے گذر کر دار العلوم کی سڑک پر سے ہو تا ہوا ہند و بازار میں آیا۔اور چوک سے غربی جانب مڑکر اور دوسرے بازار سے ہوتا ہوا احمد یہ بازار میں پہنچا جلوس کی پارٹیاں نعتیہ اشعار اور درود خوش الحانی اور بلند آواز سے پڑھ رہی تھیں اس جلوس کا انتظام حضرت صاجزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے زیر نگرانی مقامی سیکرٹری تبلیغ ملک فضل حسین صاحب مہاجر کے سپرد تھا۔اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دوسرے افراد اور بزرگ اس میں شامل تھے۔جلوس محلہ دار الفضل والی سڑک کے راستہ جلسہ گاہ میں پہنچ کر ختم ہو گیا۔جلسہ گاہ میں سب سے پہلے بچوں کا اجلاس ہوا جس کا صدر بھی ایک چھوٹا لڑ کا مقرر ہوا۔اور جس میں پریذیڈنٹ کے علاوہ میں طلباء نے آنحضرت ﷺ کے وہ احسانات بیان کئے جو براہ راست بچوں سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض بچوں کی تقریروں سے خوش ہو کر حکیم محمد عمر صاحب نے نقد انعامات دیئے ایک بچہ نے جسے دو روپے انعام ملا تھا انعام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ روپے ترقی اسلام کی مد میں دے دیئے۔اس پر اسے ایک روپیہ اور انعام دیا گیا مگر اس نے وہ بھی اشاعت اسلام میں دے دیا۔بچوں کے اجلاس کے بعد چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے کی صدارت میں جامعہ احمدیہ مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے بڑے طلباء کی تقریریں ہوئیں۔اور اجلاس کھانے اور نماز کے لئے برخاست ہوا۔نماز ظہر کے بعد پھر اجلاس ہوا۔جس میں جامعہ احمدیہ اور ہائی سکول کے ایک ایک طالب علم کی تقریروں کے بعد مشاعرہ ہوا۔اور مقامی شعراء کی سات نظموں کے علاوہ ہندو شعراء کی دو نعتیں بھی خوش الحانی سے پڑھی گئیں مشاعرہ کے اختتام پر پہلے ڈاکٹر گور بخش سنگھ صاحب ممبر سمال ٹاؤن کمیٹی قاریان نے آنحضرت ا کی سیرت پر روشنی ڈالی اور پھر چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے حضور کی سیرت مقدسہ کی خصوصیات بیان کیں اور اجلاس نماز عصر کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ساڑھے پانچ بجے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تقریر معارف تقریر " دنیا کا محسن" کے عنوان سے شروع ال ہوئی۔اس تقریر میں حضور نے آنحضرت ا کی پاکیزہ سیرت ، بیش بہا احسانات اور عدیم المثال قربانیوں کا نہایت ہی مدلل پاکیزہ اور اچھوتے طرز میں ذکر فرمایا۔اور دلائل و واقعات کی بناء پر ان