تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 642
تاریخ احمدیت جلد ۵ 630 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ فٹ بلند چوبی پلیٹ فارم تعمیر کیا گیا تھا۔جو دو سو نمائندوں اور ایک سو زائرین اور ممبران استقبالیہ کمیٹی کے لئے کافی تھا۔پنڈال میں لاؤڈ اسپیکر بھی نصب تھا۔مسلمانان ریاست کا یہ عظیم اجتماع بڑا شاندار اور کامیاب رہا۔جس میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب شیر کشمیر نے اپنا فاضلانہ خطبہ صدارت پڑھنے کے علاوہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا مندرجہ ذیل پیغام پڑھ کر سنایا۔"سب سے پہلے میں اپنی طرف سے اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے آل کشمیر مسلم کانفرنس کے مندوبین کو ان قربانیوں پر جو انہوں نے اور ان کے اہل وطن نے کی ہیں۔اور اس کامیابی پر جو انہوں نے آزادی کی تازہ جد وجہد میں حاصل کی ہے۔مبارکباد دیتا ہوں۔مجھے اس بات کا فخر ہے کہ بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی مجھے ان کے ملک کی خدمت کرنے کی خوشی حاصل ہوئی ہے جو ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک خستہ حالت میں رہا ہے۔برادران ! میں آپ کی کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔اور مجھے امید ہے کہ کانفرنس کی کارروائی میں کچی حب الوطنی کے جذبہ کے ماتحت جرأت میانہ روی ، رواداری، تشکر دانائی اور تدبر کے ذریعہ آپ ایسے نتائج پر پہنچیں گے جو آپ کے ملک کی ترقی میں بہت محمد ہوں گے اور اسلام کی شان کو دوبالا کرنے والے ہوں گے۔برادران! میرا آپ کے لئے یہی پیغام ہے کہ جب تک انسان اپنی قوم کے مفاد کے لئے ذاتیات کو فنانہ کر دے وہ کامیاب خدمت نہیں کر سکتا۔بلکہ نفاق اور اشتقاق پیدا کرتا ہے۔پس اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو نفسانی خیالات کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دو۔اور اپنے قلوب کو صاف کر کے قطعی فیصلہ کردو کہ خالق ہدایت کے تحت آپ ہر چیز اپنے اس مقصد کے لئے قربان کر دیں گے جو آپ نے اپنے لئے مقرر کیا ہے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم یعنی مسلمانان ہندوستان آپ کے مقصد کے لئے جو کچھ ہماری طاقت میں ہے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اور خدا کے فضل سے آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔اور امیدوں سے بڑھ کر ہوں گے۔اور آپ کا ملک موجودہ مصیبت سے نکل کر پھر جنت نشان ہو جائے گا۔اللہ تعالٰی آپ کے ساتھ ہو"۔اجلاس میں خوشی اور مسرت کی اس وقت ایک زبر دست لہر دوڑ گئی جب حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے یہ نہایت خوشکن اعلان کیا کہ راجہ صاحب پونچھ نے مسلمانوں کے بہت سے مطالبات منظور کرلئے ہیں۔یہ سنتے ہی جلسہ گاہ تالیوں اور زین العابدین زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔اس موقعہ پر آپ نے مسلمانان پونچھ کی داستان مصیبت بیان کی اور انہیں دور کرنے کے لئے