تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 643
حضرت امام جماعت احمدیہ کے نام شیخ محمد عبد اللہ کے بے شمار خطوط میں سے چند خطوط جو کشمیر کی تاریخ جد و جہد آزادی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔PHONK No S۔M۔Abdullah, M۔Sc۔(All) SRINAGAR 21 act 1932۔انستم یک کوه و دشت لاله و در کارها امه جناب محترم سای کیک دهم و با ده ها نہ میری زبان بھی حالت ہے۔اور نہ میرا تم میں زور اور نہ چھ سے پائی وہ الفاظ پہلی جیتنے کے تمام ما بدلہ جو کہ انتخاب نے ایک با کشی۔اور مظلوم قوم کے نی مشتری ہو تم میں پورے " وری ہے جو خدا ن کریم والقاب کو زیادہ زیاده است به تار آنحضور کا وجود مشکور ہے کتوں کیسے سہارا ہو۔شاید جناب محاضر تے ناراضی ہوں۔جوہی نے جناب نو دارت است گرای این خواب و مینه می مشایی شئے کام کیا۔میں مانتا ہوں۔وقفہ یہ مریخ گشتانی ہے۔مگر خدا کو مار جان کری جناب سے عرض کلیه و تعامل و موری کو ناگون پریش منوی نے مجھے مجبور کر لگاتا۔ایک طرف و سفت شده در انگلی پائی۔ایک طرف مولوی اور شامیانو تا افسوسناک نشاد - سالی سرشانی - استوں سے بنگانگی کا نفرنس کی تیاری ویزه وازه ، ان صعب مائوں نے مجھے سر لے کر رکھا تھا۔ا یکی استارت ناب ای پاش مشهور من العاب من طلب دے سکتے ہیں۔ان حالات اسم مقیم نے مجھے تامل رکھتی ہے۔و جناب مجھے معاف فر مانگه دارد ریز دانه در کرمان صفت کو مد نظر رکھتے تھے یقین کر لینا چاہئے۔جناب کاشی بخش جواب با ضریب چهری مدت موں کو جلد از عطر ارفع کر الگا - > حالات بلکل ٹھیک ہیں۔جناب دوار والے اور شاه حجب و زنا کام ملی معروف ہیں۔جو لوگ قومی کام میں و مخمل ہونا چاہتے ہیں۔وصہ مثال نے اپنی نانی سزا دی ہے۔احرار : دارد جالب حشم موثر تا روسه بل و حول موفا ہے بہت بات کی کانفرنش بخیر خوبی ختم ہوگئی۔بجائے تین دن ۵ کانفرنش برابر پانچ دن ہوتی رہی۔اور برمی شان شده دستورات سنی نے بڑا وقت کیا۔تار اور گر پران کی پاره امام حمل ہو نا ای تی تی به میریم اما این افرادیات