تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 641
تاریخ احمدیت - مبلده 629 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ حکومت کشمیر نے کانفرنس کے انعقاد کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔حضرت شاہ صاحب مسٹر جارڈین ریاست کے پولٹیکل منسٹر سے ملے اور ان سے کہا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ کو نسل نے شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی درخواست رد کر دی ہے اور انہیں کانفرنس قائم کرنے کی اجازت نہیں دی کہنے لگے یہ درست ہے۔شاہ صاحب نے کہا تعجب ہے کہ آپ جیسے مشیر سیاسی کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہوا ہو پوچھا کیوں اس میں کیا غلطی ہے آپ نے فرمایا۔کونسل نے بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ لوگ سیالکوٹ جائیں گے۔اور وہاں کا نفرنس قائم کریں گے۔اور اس طرح یہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔جو غیر آئینی سرگرمیاں کریں گے کہنے لگے آپ کو یقین ہے کہ وہ ایسا کریں گے شاہ صاحب نے جواب دیا مجھے قطعی یقین ہے۔ملاقات سے فارغ ہو کر آپ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے پاس پہنچے جو ان دنوں بستر علالت پر پڑے ہوئے تھے۔اور ان سے اور مولوی عبد الرحیم صاحب ایم۔اے سے مشورہ کر کے شام کو پتھر مسجد میں ایک جلسہ کیا۔جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔دو ایک تقاریر کے بعد شاہ صاحب نے نظام کی پابندی اور خدمت خلق وغیرہ پر اعتماد کرنے کی تلقین فرمائی۔آخر میں عبدالرحیم صاحب ایم۔اے (آف سرینگر) نے پبلک کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ حکومت نے انعقاد کا نفرنس سے متعلق درخواست ٹھکرا دی ہے۔اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سیالکوٹ میں ایک آفس قائم کیا جائے۔اور وہیں کانفرنس کی بنیاد ڈالی جائے۔چاروں طرف سے آوازیں آئیں ضرور ایسا کیا جائے۔دوسرے روزگور نر سردار عطر سنگھ صاحب نے کشمیر کمیٹی کے دفتر واقع چنار باغ میں شاہ صاحب کو بلانے کے لئے اپنی کار بھیجی۔شاہ صاحب ان سے ملے تو انہوں نے کہا کہ کل شام آپ نے بہت عمدہ تقریر کی جو رات ہی کو نسل میں پڑھی گئی ہے کو نسل اس شرط پر کانفرنس کی اجازت دیتی ہے کہ آپ تحریری ذمہ داری لیں۔کہ کوئی فساد نہیں ہو گا۔چنانچہ مسودہ کی عبارت لکھی گئی اور شاہ صاحب نے اس پر دستخط کر دیئے اور کانفرنس کی زور شور سے تیاریاں شروع کر دی گئیں اور ریاست کے چاروں طرف سے نمائندگان کی آمد شروع ہو گئی اس دوران میں ( کانفرنس سے دو ایک دن قبل) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے حکم پر حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد (مع چوہدری ظہور احمد صاحب) بھی تشریف لے گئے۔اور شاہ صاحب سے مل کر انتظامات کی نگرانی کے علاوہ مسودہ آئین کا نفرنس اور اس میں پیش ہونے والی قرار دادوں کی تیاری اور نظر ثانی میں مدد دینے لگے۔آخر خدا کے فضل و کرم سے آل کشمیر مسلم کانفرنس مسلم کانفرنس کا پہلا تاریخی اجلاس کا پہلا تاریخی اجلاس پورے تزک و احتشام سے و (۱۵/ اکتوبر تا ۱۹/ اکتوبر ۱۹۳۲ء) برابر پانچ روز تک جاری رہا۔مقام اجتماع پتھر مسجد تھا جہاں پندرہ