تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 640
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 628 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی ایک درخواست اس ماحول میں "میر شیر شیخ حمد حمدالله صاحب ایم ایس سی مشورہ کرنے اور دوسرے کوائف ریاست بیان کرنے کے لئے لاہور میں حضور کی ملاقات کے لئے تشریف لائے اور واپس سرینگر پہنچ کر ۸ / جولائی ۱۹۳۲ء کو مندرجہ ذیل مکتوب حضور کے نام لکھا۔/ جولائی ۶۳۲ S۔M۔ABDULLAH۔M۔S۔(ALIG) SRINAGAR جناب حضرت میاں صاحب دام اقبالہ ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ میں حضور کی نوازشات کا تہ دل سے مشکور ہوں۔آج میں لاہو ر ہوتے ہوئے جموں اور پھر کشمیر واپس جا رہا ہوں۔جیسا کہ میں نے ظاہر کر دیا ہے کہ میں ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایک پولٹیکل کانفرنس کشمیر میں بلوا رہا ہوں۔اس کے بعد شملہ جانے کا خیال ہے جیسا کہ حضور کو بھی معلوم ہے اگر حضور اگست کے دو سرے ہفتہ میں کشمیر چند دن کے لئے تشریف لے آویں- تو کانفرنس کے کامیاب بنانے میں ہمیں بہت امداد مل سکتی ہے۔بلکہ ضرورت بھی ہے کہ حضور ابھی سے مجھے شملہ جانے اور کانفرنس کے پروگرام کے متعلق تفصیلی ہدایات و تجاویز بھیج کر میری راہنمائی فرما دیں مشکور ہوں گا کانفرنس کی معین تاریخ کے متعلق میں حضور کو سرینگر سے مطلع کروں گا۔مجھے امید ہے کہ حضور آج سے کانفرنس کے کامیاب بنانے میں سعی فرمائیں گے۔والسلام آپ کا تابعدار عبد الله سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی خود تو تشریف نہ لے جاسکے۔مگر آپ نے پہلے سید زین اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو کانفرنس کے کے ہاتھوں کانفرنس کے انتظامات انتظام میں درد دینے کے لئے سرینگر بھجوا دیا اور کانفرنس کے پراپیگنڈا کے لئے میر پور کوٹلی کٹھوعہ ، بھیمہ ، راجوری اودھم پور اور ریاسی کو بھی نمائندہ کارکن روانہ کر دیئے۔اور شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو لکھا کہ میں جہاں تک ہو سکے گا آپ کی مدد کروں گا۔مسٹر عبد اللہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس خیال سے کہ اس وقت کشمیر میں آپ سے بہتر کوئی اور مخلص کارکن نظر نہیں آتا۔(مکتوب محرره ۱۵/ ستمبر ۱۹۳۲ء) حضرت شاہ صاحب سرینگر پہنچے یہاں پہنچتے ہی سب سے پہلی اور بہت بڑی مشکل یہ آن پڑی کہ