تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 587
تاریخ احمد بت جلده 575 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان راستوں سے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کریں۔اگر ان میں سے بعض بند نظر آئیں تو ہمیں مایوسی کی ضرورت نہیں ہم نے اگر ایک کوشش کی اور اس میں ہم ناکام رہے تو مایوسی کی کونسی بات ہے ہمیں پھر کوشش کرنی چاہئے۔اور پھر کوشش کرنی چاہئے یہاں تک کہ ہم کامیاب ہو جا ئیں۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مڈلٹن کمشن خود مسلمانوں کی کوششوں کے نتیجہ میں مقرر ہوا تھا۔کشمیر سے متواتر یہ آواز آرہی تھی۔کہ آزاد کمیشن مقرر کرایا جائے۔اور باہر کے مسلمانوں نے اس کی تائید کی۔پس اس قسم کے نتائج سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔مڈلٹن کمیشن پر نہ آپ کو کوئی نا قابل برداشت قربانی کرنی پڑی ہے اور نہ اس رپورٹ سے ہماری پہلی پوزیشن میں کوئی نقص واقع ہوا ہے اس کمیشن کا مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے اس خیال سے تھا کہ اگر وہ انصاف پر مبنی ہو ا تو مسلمانوں کی طرف غیر جانبدار لوگوں کی توجہ ہو جائے گی۔اب اگر خلاف فیصلہ ہوا تو حالت وہیں کی وہیں آگئی جہاں پہلے تھی۔پس نقصان کچھ نہیں ہوا۔ہاں اگر فیصلہ درست ہو تا تو فائدہ ہو سکتا تھا۔پس مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔قومی جنگوں میں اتار چڑھاؤ ہوتے رہتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے متعلق بھی آتا ہے کہ لڑائی ڈول کی طرح تھی۔کبھی کسی کا ڈول کو ئیں میں پڑتا اور کبھی کسی کا پس اگر فی الواقع مسلمانان کشمیر کا ارادہ آزادی حاصل کرتا ہے تو انہیں اپنے دل وسیع اور مضبوط کرنے چاہئیں۔اور اپنی ہمتیں بلند اور اس قسم کی تکلیفوں اور ناکامیوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرنی چاہئے ورنہ وہ یاد رکھیں کہ بڑے کام چھوٹے حوصلوں سے نہیں ہوتے اور اگر ان کا منشاء صرف تکلیفوں سے بچنے کا ہے تو اس کا آسان علاج ہے کہ ہتھیار ڈال دیں۔اس صورت میں کچھ دنوں تک یہ ظاہری ظلم بند ہو کر اسی سابقہ کند چھری سے ہندو افسرانہیں قربان کرنے لگیں گے۔جس سے پہلے قربان کیا کرتے تھے۔لیکن اس موت میں نہ کوئی شان ہوگی نہ مسلمانوں کی ان سے ہمدردی ہو گی۔ہم لوگ آپ کے بلانے پر آئے ہیں اگر آپ لوگ خاموش ہونا چاہیں تو ہم بھی خاموش ہو جائیں گے مگر مجھے یقین ہے کہ مایوسی صرف چند لوگوں کا حصہ ہے مسلمانوں کی کثرت اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے آزادی حاصل کرنے کے لئے جان و دل سے مستعد ہے اور یہی کثرت ہے جو آخر باوجود ہمت ہارنے والوں اور مایوس ہونے والوں کے انشاء اللہ کامیاب ہو کر رہے گی۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب ہمیں گلنسی کمیشن پر کیا اعتبار رہا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کلنسی کمیشن سے بھی خطرہ ہے جس طرح مڈلٹن کمیشن میں خطرہ تھا۔لیکن اگر اس کمیشن نے بھی ہماری امیدوں کے خلاف فیصلہ کیا۔تو ہمارا کیا نقصان ہو گا۔کیا انگریز کے منہ سے نکلی ہوئی بات ہمارے مذہب