تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 586 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 586

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 574 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کے حج خریدے جاسکتے ہوں لیکن مسٹرڈ لٹن نہیں خریدے جاسکتے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ واقفوں کی رائے کو جو خود ہماری قوم کے فرد ہیں ہم نظر انداز کر دیں۔پس میں یہ تو نہیں مان سکتا۔کہ مسٹرڈ لٹن نے بد دیانتی سے کام لیا ہے۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی رائے یکطرفہ ہے اور ان کی طبیعت کا میلان ان کے فیصلہ سے پھوٹا پڑتا ہے۔جب ایک کمیشن کے تقرر کی ہم کوشش کرتے ہیں۔تو ہمیں اس امر کی توقع رکھنی چاہئے کہ ممکن ہے اس کا فیصلہ ہمارے خلاف ہو۔ہزاروں مقدمات میں بچے جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں اور جھوٹے بچے ثابت ہو جاتے ہیں پس اگر صرف ڈلٹن کمیشن کا فیصلہ ہمارے خلاف ہوتا اور مسلمان اس پر ناراض ہوتے تو میں اسے بچپن کا فعل قرار دیتا اور باوجود اس فیصلہ سے اختلاف رکھنے کے اس پر ناراضگی کا اظہار نہ کر تا لیکن یہ فیصلہ اس رنگ میں لکھا گیا ہے۔کہ صرف خلاف ہی فیصلہ نہیں ہے۔بلکہ متعصبانہ رنگ رکھتا ہے چنانچہ ہر اک بات جو مسلمانوں کے منہ سے نکلی ہے اسے ”خلاف عقل" بالبداہت باطل پکھلی کھلی دروغ بیانی قرار دیا گیا ہے اور جو کچھ ریاست کی طرف سے کہا گیا ہے۔اسے معقول اور درست قرار دیا گیا ہے اور متعدد گواہوں کی گواہیوں کو اپنے ذاتی میلان پر قربان کر دیا گیا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کی گواہی کو من حیث القوم نا قابل اعتبار قرار دے کر ایک ایسی قومی ہتک کی گئی ہے کہ اس کا خمیازہ اگر خطرناک سیاسی بے چینی کی صورت میں پیدا ہو تو برطانیہ کو سوائے اس بات کے کہنے کے چارہ نہ ہو گا کہ خدا مجھے میرے بے احتیاط فرزندوں سے بچائے۔مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں اکثر انگریز دلوں میں خوب سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے۔پس اس رپورٹ کا مسلمانوں پر تو کیا اثر ہو گا۔خود انگریزوں پر بھی اس کا کوئی اثر نہ ہو گا یہ اور بات ہے کہ بعض لوگ اپنے سیاسی فوائد کی وجہ سے اپنے دلی خیال کا اظہار نہ کریں۔مجھے حیرت ہے کہ جب مسٹرڈ لٹن کے نزدیک سب کشمیری مسلمان جھوٹے ہیں۔تو انہیں اس قدر عرصہ تک تحقیقات کی ضرورت کیا پیش آئی تھی۔انہیں تو شروع میں ہی کہہ دینا چاہئے تھا کہ میں کسی مسلمان کی گواہی نہیں سنوں گا۔اس قدر روپیہ اپنی ذات پر اور اپنے عملہ پر خرچ کروانے کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کا روپیہ بھی جنھوں نے دور دور سے گواہ منگوا کر پیش کئے تھے کیوں ضائع کرایا۔ٹڈلٹن کمیشن رپورٹ پر اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد اس امر پر بھی اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کہ اس رپورٹ کے شائع ہونے پر بعض لوگ اس طرح مایوس ہو گئے ہیں کہ گویا ان کے نزدیک مڈلٹن کمیشن ہی ہمارا معبود ہے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کام کرنے کے کئی راستے تجویز کئے ہیں۔