تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 588
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 576 ی کشمیر اور جماعت احمد سید کا جزو ہے اگر مسٹر کھنسی نے مسٹرڈ لٹن والا طریق اختیار کیا تو ہم مڈلٹر کی غلطیوں کی طرح کا بھی پردہ فاش کریں گے۔اور اگر اس میں مسلمانوں کے حق میں کوئی سفارش کی گئی۔تو یقینا اس سے ہم کو فائدہ پہنچے گا۔بعض افسر اور بعض دوسرے لوگ بہت پہلے سے کلنسی رپورٹ کے متعلق بھی کہہ رہے ہیں کہ مسٹر کلنسی نے ان سے کہہ رکھا ہے کہ ان کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہو گا۔اگر یہ سچ ہے تو بھی میرے نزدیک ہمیں اس سے مایوسی کی ضرورت نہیں۔ہر ایک غیر منصفانہ رپورٹ جو انگریز کریں گے اس سے مسلمانوں کی ہمدردی کھو کر اپنی قوم کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔پس ایسی رپورٹ سے ہمارا نقصان نہیں خود ان کا نقصان ہے ہمارے مطالبات پھر بھی قائم رہیں گے ہم نے اپنے حقوق کے متعلق کیا یہ تسلیم کیا ہے کہ جو کچھ انگریز کہ دیں گے اسے ہم تسلیم کرلیں گے۔اگر وہ معقول بات ہوگی تو ہم اسے مانیں گے۔ورنہ کہیں گے کہ عطائے تو بلقائے تو۔برادران! یاد رکھیں کہ یہ مایوسی کی لہر دو طرح سے چلائی جارہی ہے۔ایک ریاست کے ہندو افسروں کی طرف سے جو بعض انگریزوں کی غلطیاں گنوا کر مسلمانوں کو اس طرف لانا چاہتے ہیں کہ وہ خود ریاست کے ہندو افسروں سے فیصلہ چاہیں۔حالانکہ جو کچھ ہندو افسروں نے سلوک کیا ہے وہ اس قدر پرانا نہیں کہ اسے مسلمان بھول جائیں۔ایک شخص کے فیصلہ سے انگریزی طبیعت کا حال نہیں معلوم ہو سکتا نہ مسٹرڈ لٹن اور مسٹر کلنسی انگریزی حکومت کا نام ہے۔لیکن ہندوؤں نے تو ریاست میں افراد کی حیثیت میں نہیں حکومت کی حیثیت میں مسلمانوں کو بے دردی سے کچلا ہے۔پس جو کچھ ان سے ظاہر ہوا ہے کیا مسلمان اسے اس قدر جلد بھول جائیں گے ؟ اب اس وقت بھی کہ مڈلٹن رپورٹ شائع ہو چکی ہے میرے پاس درخواستیں آرہی ہیں کہ میرپور کی طرح دوسرے علاقوں میں بھی انگریزی مداخلت کی کوشش کی جائے۔اگر انگریزوں اور ریاستی حکام میں فرق نہیں تو یہ کیوں ہو رہا ہے ؟ یہ سخت بے وقوفی ہو گی کہ ہم ایک شخص سے یا ایک فعل سے ناراض ہو کر عقل کو ہی چھوڑ دیں اور اپنی موت کے سامان خود کرنے لگیں۔پس مڈلٹن رپورٹ کی غلطی کا یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہئے کہ ہم ہندو حکام کے ہاتھ میں کھیلنے لگیں۔ان باتوں میں آنے والے لوگوں کو چاہیئے۔کہ ان وسوسوں کے پیدا کرنے والوں سے دریافت کریں کہ فرض کرو کہ مڈلٹن صاحب کوئی رقم کھا گئے ہیں (جسے میں تسلیم نہیں کرتا ) تو یہ بتاؤ وہ رقم کس نے کھلائی ہے۔اور کس غرض سے ؟ اگر ہندو حکام نے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے تو اس جھوٹ کو تسلیم کر کے بھی تو اصل دشمن وہی رشوت کھلانے والے ثابت ہوتے ہیں۔دوسرے لوگ جو اس وقت مایوسی پیدا کر رہے ہیں۔وہ لوگ ہیں جو اس امر سے ڈرتے ہیں کہ کہیں دوسری مسلمان ریاستوں میں شورش نہ پیدا کی جائے یہ لوگ بھی سخت غلطی پر ہیں۔اول تو کشمیر