تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 585
تاریخ احمدیت جلد ۵ 573 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ شائع نہیں ہوئی لیکن اس کا خلاصہ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔اس خلاصہ کو دیکھ کر مسلمانوں میں سخت جوش اور غضب کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ محسوس کر رہے ہیں کہ ریاست کے ہندو افسروں کی طرح انگریزی افسروں نے بھی ان سے دھو کہ کیا ہے اور یہ کہ وہ آئندہ انگریزوں سے بھی کسی انصاف کی امید نہیں کر سکتے۔گو اس قسم کی منافرت اور مایوسی کے جذبات میرے دل میں پیدا نہ ہوئے ہوں جو بعض دوسرے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوئے ہیں لیکن میں اس امر کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میرے نزدیک ہر انصاف پسند انسان کے نزدیک یہ رپورٹ موجب حیرت ثابت ہوئی ہو گی۔اور تو اور سول اینڈ ملٹری گزٹ اخبار تک اس رپورٹ کے متعلق شبہات کا اظہار کرتا ہے اور اس کے حیرت انگیز یک طرفہ فیصلہ کو ایسوسی ایٹڈ پریس کے خلاصہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے اصل رپورٹ کے شائع ہونے کی انتظار کا مشورہ دیتا ہے۔وہ لوگ جو اس امید میں تھے کہ مڈلٹن کمیشن کی رپورٹ مسلمانوں کی مظلومیت کو روز روشن کی طرح ثابت کر دے گی بے شک اس وقت سخت مایوسی محسوس کرتے ہیں لیکن جن لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ نہ افراد اقوام کے قائم مقام ہوتے ہیں اور نہ قومی جنگیں آسانی سے ختم ہو ا کرتی ہیں۔وہ باوجود خلاف امید نتیجہ کے مایوس نہیں اگر مسلمان مظلوم ہیں جیسا کہ ہمارے نزدیک مظلوم ہیں تو ہزار مڈلٹن رپورٹ بھی ان کو ظالم نہیں بنا سکتی وہ مظاہرات جو برطانوی علاقہ کے مظاہرات کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے تھے۔لیکن جن کو بجائے لاٹھیوں کے گولیوں سے پراگندہ کیا گیا۔اور گولیاں بھی اس بے دردی سے چلائی گئیں کہ کثیر تعداد آدمیوں کی ان کا نشانہ بنی ایسا واقعہ نہیں ہیں۔کہ مڈلٹن رپورٹ ان کی حقیقت پر پردہ ڈال سکے۔اگر مڈلٹن رپورٹ کا کوئی اثر دنیا پر ہو گا۔تو صرف یہ کہ لاکھوں آدمی جو اس سے پہلے برطانوی انصاف پر اعتماد رکھتے تھے۔اب برطانوی قوم کو بھی ظالم اور جابر قرار دینے لگیں گے۔پس میرے نزدیک مڈلٹن رپورٹ کا نہ ریاست کو فائدہ پہنچا ہے اور نہ مسلمانوں کو نقصان۔بلکہ انگریزوں کو نقصان پہنچا ہے۔پس نہ ہندوؤں کے لئے خوشی کا موقع ہے اور نہ مسلمانوں کے لئے گھبراہٹ کا۔اگر کسی کے لئے گھبراہٹ کا موقعہ ہے۔تو عقلمند اور سمجھدار انگریزوں کے لئے جو اس میں اپنے وقار پر ایک شدید ضرب محسوس کریں گے۔مجھے یقین ہے کہ مسٹرڈ لٹن بد دیانت نہیں۔اور معاملہ وہ نہیں جو ریاست کے بعض اعلیٰ کار کن کئی ماہ سے بیان کر رہے تھے۔یعنی یہ کہ انہوں نے مسٹرڈ لٹن کی رائے کو خرید لیا ہے کیونکہ گو میں مسٹر مڈلٹن کو ذاتی طور پر نہیں جانتا۔لیکن ان کے جانے والے سب مسلمان یہی کہتے ہیں کہ خواہ ہائیکورٹ