تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 565
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 553 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ لئے ایک طرف کشمیر کمیٹی کی بنیاد ڈالی اور دوسری طرف مجلس احرار کی سرفروش جماعت کا رخ ہماری طرف پھیر دیا۔ہماری گوناگوں ضروریات اس بات کی مقتضی تھیں کہ ہماری امداد سب سے زیادہ قانونی اور مالی شکل میں کی جائے۔کیونکہ ہماری مقابل طاقت نے زیادہ تر ہماری ان ہی دو کمزوریوں کو ہمارے دبانے کا ذریعہ بنار کھا تھا۔اس اجمال کی تفصیل یوں ہے کہ تحریک کو دبانے کے لئے جو قتل و غارت عمل میں آئی۔اس کے باعث سینکڑوں، بیوائیں اور یتیم اور ہزاروں بے خانماں اشخاص تحریک کی گردن پر بوجھ بن کر رہ گئے۔جن کی مالی امداد کرنا تحریک کو فروغ دینے کے مترادف ہو گیا۔اس کے ساتھ ہزارہا مسلمانوں پر جعلی مقدمات دائر کر دیئے گئے۔مسلم وکلاء کی جو حالت کشمیر میں ہے۔وہ عیاں ہے پہلے تو ہیں ہی نا پید اور جو کہیں ایک آدھ ہے بھی تو اس کے لئے جرات کے ساتھ سیاسی مقدمات کی پیروی کرنا نہیں۔ان حالات میں ہمارے بیرونی معاونین کا فرض تھا کہ وہ ہماری ان دو سب سے بڑی " ضرورتوں کو اچھی طرح سے محسوس کرتے اور اسی رنگ میں ہماری امداد کی طرف قدم اٹھاتے۔اس معاملہ میں جہاں تک ممکن ہو سکا۔کشمیر کمیٹی نے ہمارا ہاتھ بٹایا۔مگر افسوس کہ لیڈران احرار نے اپنی توجہ کو ہمارے اس فوری اور صبر شکن درد کی طرف متوجہ نہ کیا۔اس میں شک نہیں کہ ان کی نگاہیں بہت رفیع مقاصد کی طرف لگی ہوئی تھیں اور وہ ہمارے لئے سیاسیات عالیہ کے انتہائی مدارج کو پا انداز کر دینا چاہتے تھے۔مگر افسوس کہ درخت پر چڑھنے کے لئے جو قدرتی اصول تھا۔اسے انہوں نے نظر انداز کر کے براہ راست بھنگ کو ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی " علاوہ ازیں شیخ صاحب نے اکتوبر ۱۹۳۳ء میں صفاکدل میں ایک تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ کیا تم اس جماعت کو مردہ باد کہتے ہو جس جماعت کے ہر فرد میں صحابیوں جیسا ایثار ہے اور آپس میں ایسی ہمدردی ہے جیسا کہ قرون اوٹی والے مسلمانوں میں تھی کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہاں کے اکثر پیرزادے یا اور دیگر طالب علم جب پنجاب میں طلب علم کے لئے جاتے ہیں۔تو وہاں شہر شہر در بدر پھرتے ہیں جس وقت وہ قادیان پہنچ جاتے ہیں تو انہیں وہاں آرائش اور آرام ملتا ہے۔حتی کہ وہ ایک عالم یا گریجوایٹ بن کر وہاں سے نکلتا ہے وہ لوگ نرمی اخلاق اور تہذیب میں مشہور ہیں۔جب میں قید ہند کے زمانہ میں بالکل بے بس اور لاچار تھا میں نے یہاں کے وکلاء سے ، دمانگی انہوں نے صاف انکار کیا بلکہ دو گنا معاوضہ طلب کیا۔پھر میں نے ہندوستان کے مسلمانوں سے درخواست کی وہاں سے بھی نا امیدی ہوئی۔پھر اس جماعت کے امام سے میں نے امداد کی درخواست کی تو فورا انہوں نے ہر رنگ میں ہماری مدد کی جس سے تم بے خبر نہیں ہو۔جس وقت ان کے ایک وکیل کو گھر سے تار آیا کہ اس کے بچے بیمار ہیں تو وہ میرے پاس آیا میں نے انہیں جانے کے لئے مشورہ