تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 566
تاریخ احمدیت جلد ۵ 554 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ دیا لیکن انہوں نے جواب دیا۔اگر یہاں ایک مسلمان آزاد ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ میرے بچے صحت یاب ہو گئے۔بعد میں اس کے بچے یہاں ہی آئے تو کیا تم میں سے بہتوں نے نہیں دیکھا کہ وہ صاحب ایک ہاتھ سے بچوں کی مالش کرتے تھے اور ایک ہاتھ سے مسل کا مطالعہ کرتے تھے "۔۔۔۔۔۔۔عتیق اللہ صاحب کشمیری کا بیان جناب عقیق اللہ صاحب کشمیری نے انقلاب ۱۲۰ اپریل ۱۹۳۲ء میں لکھا۔"آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے جس خلوص اور ہمدردی کے ساتھ مظلوم مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کو مالی جانی قانونی امداد دی۔اس کے لئے ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ زبان سپاس ہے اور ہم لوگ اس کمیٹی کی بے لوث مالی امداد کے تازیست ممنون رہیں گے۔اس کمیٹی نے شہدا کے پسماندگان کا خیال رکھا۔یتامی و ایامی (بیوگان - ناقل) کی پرورش کی۔محبوسین کے پسماندگان کو مالی امداددی۔ماخوذین کو قانونی امداد دی۔کارکنوں کو گرانقدر مشورے دیئے جنگلوں اور پہاڑوں میں جاکر مظلومین کی امداد کی ماخوذین کی اپلیں دائر کیں۔اور ان کے مقدمات کی پیروی کی۔قابل ترین قانونی مشیر بہم پہنچائے۔ہندوستان اور بیرون ہند میں ہماری مظلومیت ظاہر کرنے کے لئے جان توڑ کوشش کی۔ہماری آواز کو مقام بالا تک پہنچایا۔ہماری تسلی اور تسکین کی خاطر اشتہارات اور ٹریکٹ شائع کئے۔ہر وقت قابل اور موزوں والنٹیئر دیئے۔دنیائے اسلام کو ہمارے حالات سے آگاہ کر کے ہمدردی پر آگاہ کیا۔اخبارات کے ذریعہ سے ہماری مظلومیت کو ظاہر کیا گیا"۔صاحب دین صاحب میرپور نے اکتوبر ۱۹۳۳ء صاحب دین صاحب میرپور کا بیان میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے نام مندرجہ ذیل خط لکھا۔" مظلومان خطہ کشمیر خاص کر مہجوران و مظلومان میر پور پر جو الطاف و اکرام۔۔۔۔۔معلی القاب نے کئے ہر صاحب خرد و ہوش پر اظہر من الشمس ہیں۔کون نہیں جانتا کہ از ابتدائے تحریک تا حال زیر صدارت آنحضور مریدان با عقیدت مولوی ظهور الحسن ، مسٹر محمد یوسف عزیز احمد اور شیخ بشیر احمد صاحب جیسے لائق اشخاص کی بے لوث خدمات نے میرپور کیا بلکہ ریاست بھر کے بے کس دبے نوا انسانوں کے سفینہ حیات کو گرداب استبداد میں جبرو تظلم کے تھپیڑوں سے بچا کر ساحل استراحت کی جانب لا رکھا۔آنحضرت کے فیض عام اور احباب متذکرہ بالا کی خدمات کے نقش مسلمان میرپور کے صفحہ دل پر قیامت تک منقش رہیں گے۔جن کا اعتراف تاحد علم ہر ایک موقعہ پر کرتے رہے اور کرتے رہیں گے "۔