تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 564 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 564

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 552 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ہی دخل دیتے تھے۔ان کو بھی مختلف الزامات میں ماخوذ کر لیا تھا۔اس لئے آئے دن ان کی قانونی امداد کی ضرورت پڑتی رہتی تھی۔چونکہ مسلم وکلاء اول تو تھے ہی کم اور اگر اکار کا کہیں تھا بھی تو وہ خود اسیر زندان تھا۔اس لئے اس پہلو میں بھی بڑی مدد کی ضرورت تھی اور اس سلسلہ میں کشمیر کمیٹی نے جہاں مقامی طور پر قانونی امداد میسر آسکتی تھی اس کے مہیا کرنے کا بندوبست کیا۔اور جہاں یہ ناممکن تھا وہاں لاہور سے وکلاء مہیا کئے گئے۔اور ان کے اخراجات کمیٹی نے بھی برداشت کئے۔اس کے سوا چھوٹے بڑے دو سرے کاموں کے لئے اخراجات کی کافی ضرورت ہوتی تھی۔اس میں شبہ نہیں کہ ہنگامی قسم کے اخراجات تو مقامی طور پر بے شک پیدا ہو جاتے تھے لیکن دور رس اور مسلسل قسم کے اخراجات کے لئے کشمیر کمیٹی مالی امداد بھی کرتی تھی۔میرا ذاتی نقطہ نظریہ ہے کہ کشمیر کمیٹی نے ۱۹۳۱ء میں جو مالی امداد تحریک کشمیر کی کی وہ لامحالہ بڑی ٹھوس او روزن دار تھی اور پائیداری اور نتیجہ خیزی کے لحاظ سے بے مثل تھی۔میں ان آدمیوں سے متفق نہیں ہوں۔جو یہ سمجھتے تھے یا اگر نہیں سمجھتے تھے تو کہتے تھے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے کشمیر کمیٹی کا ڈھونگ حکومت ہند کے ایماء پر کھڑا کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو علامہ اقبال جیسے انسان جس مجلس میں شامل ہوئے ہوں میں کبھی بھی نہیں سمجھ سکتا۔کہ اس کا تعلق حکومت ہند سے ہو سکتا ہے۔میرے مرشد کبھی بھی ایسی جماعت میں شامل نہ ہوتے۔جس کے متعلق انہیں ایک فیصدی بھی شبہ ہو تا کہ وہ حکومت ہند کی آلہ کار ہے دوسرے بہ حیثیت جموں اور کشمیر کا ایک باشندہ ہونے کے ہماری سب سے بڑی خواہش یہی تھی اور سب سے بڑا مفاد اس میں تھا کہ حکومت ہند کشمیر کے معاملات میں مداخلت کرے۔کیونکہ حکمران کشمیر نے مسلمانان کشمیر کو بالکل مجبور و بے بس کر دیا تھا اور انصاف کے سارے دروازے ان پر بند کر دیئے گئے تھے۔اور اس کا مدادا صرف یہی تھا کہ حکومت ہند جس کے پاس پر امونٹ پاور تھی۔وہی اس کا ازالہ کر سکتی تھی اور خود کانگریس نے چند دوسری ریاستوں میں اس چیز کے لئے حکومت ہند سے اپیل بھی کی تھی۔کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ جو چیز دوسری ریاستوں کے عوام کو وہاں کے حکمرانوں کی بے اعتدالیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے طلب کی گئی وہی چیز اگر ہمارے لئے مطلوب ہوئی تو اسے برا کیوں کہا جائے"۔۲ شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے ایک شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا بیان مضمون میں لکھا۔و گزشتہ سال جس وقت ہم پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے۔اس وقت ہماری بے کسی اور بے چارگی کی جو حالت تھی۔اس کا اقتضاء یہ تھا کہ ہم دنیا کی ہر اس چیز سے فائدہ حاصل کریں جو ہمارے لئے ذرہ بھر بھی مفید ہو سکتی ہو۔پنجاب کے حساس مسلمانوں نے اخوت اسلام کے پیش نظر ہماری امداد کرنے کے