تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 563
تاریخ احمدیت۔جلده 551 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه گھنٹہ تک بحث کی جس کے نتیجہ میں پانچ مسلمان بالکل بری کر دیئے گئے اور ایک کی سزا میں تخفیف کر دی گئی۔ریاستی حکام نے آپ کو بھی چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر ریاست چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا۔چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ میں نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا۔اس لئے میں ریاست سے باہر نہیں جاؤں گا۔ہاں اگر حکام مجھے زبر دستی اٹھا کر ریاست سے باہر چھوڑ آئیں۔تو اور بات ہے یا پھر مجھ پر قانون کے ماتحت مقدمہ چلایا جائے۔بالآخر ریاست کو نوٹس واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا۔NA جماعت احمدیہ کے وکلاء نے تحریک آزادی کے سلسلہ وکلاء کی خدمات پر خراج تحسین میں جو سنہری کارنامے دکھائے ان کے لئے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے۔اوپر جو کچھ بیان ہوا وہ بھی اگر چہ اجمالی رنگ کی تفصیل تھی۔مگر اس سے تحریک آزادی کشمیر کے ان مجاہدوں کی سرگرمیوں کا نقشہ جنگ مطالعہ کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔تا ہم اس فصل کے اختتام پر کشمیر کے مسلم زعماء کے عمومی تاثرات کا درج کرنا ضروری ہے۔- جناب اللہ رکھا صاحب ساغر سابق مدیر "رهبر" جناب اللہ رکھا صاحب ساغر کا بیان سرینگر و " جاوید " جموں (جن کا شمار ریاست کے ممتاز سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے) ایک بیان میں فرماتے ہیں۔ریاست کے اندر تو یہ ہو رہا تھا اور بیرون ریاست برطانوی ہند میں بھی پارہ کافی حد تک اونچا چڑھ چکا تھا۔اپنے اپنے طور پر سب ہی کوشش کر رہے تھے کہ مسلمانان کشمیر کی ممکن حد تک مدد ہوتی رہے۔لیکن اس سلسلے میں کشمیر کمیٹی کی حیثیت منفرد تھی۔اس نے سائنٹیفک طور پر اس مہم کو بڑے منظم طریقے سے چلایا۔پلٹی کو بہت فروغ دیا۔حکومت ہند تک کئی یاد داشتیں بھیجیں۔متعدد و خود ارسال کئے اور سب سے بڑھ کر اندرون ریاست سے ایسا اچھا میل قائم کیا کہ لوگوں کو اس سے بڑی سہولت ملی اطلاعات ہم لوگ فراہم کرتے۔برطانوی ہند میں اس کو نشر کرنے کی ساری ذمہ داری کشمیر کمیٹی کی تھی۔اور یہ رابطہ بڑا سہل اور آسان رکھا گیا۔ہر جگہ سے اطلاعات بڑے سادہ طریقہ پر پہنچائی جاتیں کم خواندہ آدمی بھیجے جاتے۔اور اس کی نوک پلک درست کر کے اور اس کو دل نشین اور موثر پیرایہ میں ڈھال لیا جاتا تھا۔اور کشمیر کمیٹی کی کوئی ایجنسی انہیں نشر کر دیتی تھی۔اس کے علاوہ روز مرہ کی ضروریات کے لئے مادی امداد بھی برابر پہنچتی رہتی تھی۔مثلاً سائیکلو سٹائل کی مشین ، سٹیشنری، مطبوعات وغیرہ کی سپلائی خفیہ راستوں سے با قاعدہ جاری رہتی تھی۔چونکہ ریاست میں پکڑ دھکڑ عام ہو چکی تھی۔اور تمام قابل ذکر لیڈر اور کارکن گرفتار کر لئے گئے تھے۔بلکہ ان کے لواحقین تک کو بھی جو سیاسیات میں اپنے بڑھاپے یا کاروبار کی وجہ سے کم