تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 514 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 514

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 502 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ -۹۶ حضور شریک اجلاس ہونے کے لئے 11/ ستمبر ۱۹۳۱ء کو ۳ بجے کی گاڑی سے عازم سیالکوٹ ہوئے رستہ میں ڈیرہ بابا نانک نارووال چونڈہ اور سیالکوٹ اسٹیشن پر آپ کا شاندار استقبال کیا گیا یا لکوٹ میں آپ آغا حید ر صاحب رکھیں کے مکان پر فروکش ہوئے اور کشمیر کمیٹی کے اجلاس میں شامل ہونے کے علاوہ جماعت احمدیہ سیالکوٹ اور لجنہ اماءاللہ کو بھی خطاب فرمایا۔اور قلعہ سیالکوٹ پر معرکتہ الاراء تقریر بھی فرمائی اور حسب پروگرام ۱۵/ ستمبر ۱۹۳۱ء کو صبح ساڑھے چار بجے کے قریب بذریعہ موٹر روانہ ہو کر تین بجے شام واپس قادیان تشریف لے آئے۔(الفضل ۱۵د۱۷/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ او ۲) الفضل ۲۰/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۲۔ه الفضل ۲۹/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحه ۴ 44 اخبار الامان (۱۹) ستمبر ۱۹۳۱ء) نے لکھا۔یہ تجاویز نہایت معقول ہیں اور کافی غور و تدبر کے بعد منظور کی گئی ہیں۔ان تجاویز کے ذریعہ مہاراجہ کشمیر کو موقع دیا گیا ہے۔کہ وہ ایک ماہ کے اندر مسلمانوں کے مطالبات پورے کر دیں۔ورنہ اس کے بعد مسلمان اپنی جد و جہد شروع کر دیں گے نیز اس عرصہ میں مسلمانوں کے لئے ایک پروگرام بھی تجویز کر دیا گیا ہے۔کہ وہ اس پر عمل کرکے قربانیاں دینے کی تیاری کریں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس پروگرام کے مطابق ہر جگہ تیاریاں شروع کر دیں۔(بحوالہ الفضل ۲۷/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۵ کالم (۳) -[** ان حضرات کی شان میں جناب افضل حق صاحب مفکر احرار لکھتے ہیں۔یہ اپنی پگڑی پہلے ہی بغل میں دابے پھرتے تھے اور دوسروں کی اچھل جائے تو افسوس نہیں کرتے۔(تاریخ احرار صفحہ ۴۱) طبقاتی جنگ احرار کے مزاج کے عین مطابق ہے۔(تاریخ احرار صفحه 10 ہم نے ابھی تخریبی کام سیکھا ہے۔تخریب کے ساتھ ساتھ تعمیری ذہن کی ضرورت ہے۔( تاریخ احرار صفحہ ۲۷۴) الفضل ۲۰/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحه ۳-۴- مشہور عالم اہل حدیث جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے لکھا۔سیالکوٹ میں خلیفہ پر اتنے پتھر پڑے تھے کہ دو ٹرنک بھر کر لائے تھے۔(اہل حدیث امر تسرے /جنوری ۱۹۳۸ء صفحه ۴) ۱- الفضل ۲۷/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۲۹٫۲/ ستمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۲ میں یہ تفصیلات چھپ گئی تھیں۔۱۰- الفضل ۲۹/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۱۔الفضل / اکتوبر ۱۹۳۱ء صفحها -۱۰۵ الفضل قادیان مورخه ۲۷/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحه ۴٫۳- الفضل ۲۷/ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۵ کالم ۲۰۱ ١٠٧- بحواله الفضل ۱۰/ نومبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۱۱ کالم ---- اسی زمانہ میں پنجاب کے ۲۲ مشہور مسلمان زعماء ( مثلا ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین صاحب بیر سٹرایٹ لاء سید محسن شاہ ایڈووکیٹ ، مولوی غلام مرشد صاحب مولوی غلام محی الدین صاحب سیکرٹری انجمن حمایت اسلام پروفیسر سید عبد القادر صاحب، خواجہ دل محمد صاحب ایم اے) وغیرہ نے مسلمانوں سے ایک بیان میں اپیل کی کہ بعض مضبوط قرائن سے یہ اندیشہ پیدا ہو رہا ہے کہ حکام ریاست کشمیر مسلمانوں کی قوت کو توڑنے کے لئے یہ حربہ استعمال کرنے کے درپے ہیں کہ ان کے اندر فرقہ وارانہ سوال پیدا کریں۔مسئلہ کشمیر ایک ہتم بالشان اسلامی مسئلہ ہے کسی قسم کے فرقہ وارانہ خیالات کی وجہ سے اس کو کسی قسم کا ضعف پہنچانا اسلام کے ساتھ غداری کے مترادف ہے اور ہمیں امید واثق ہے کہ ریاست ہمارے اندر اس قسم کی کمزوری پیدا کرنے میں ناکام ہو گی اور اس کی طرف سے آخری حربہ کے بالمقابل بھی مسلمان اپنی اسلامی صلاحیت کا ثبوت دیں گے۔(الفضل ۱۸/ اکتوبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۱-۲) ۱۰۸- یہ نام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ایک تار سے معین ہوتے ہیں۔جو حضور نے مولوی محمد یوسف صاحب میرواعظ کے نام دیا تھا۔الفضل ۲۵ اکتوبر ۱۹۳۱ء صفحه ۴ کالم -۲ لاہور ۱۳ مئی ۱۹۶۵ء صفحہ ۸ یہ میموریل جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے خوبصورت انگریزی پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا تھا مندرجہ ذیل نمائندگان نے پیش کیا۔(۱) میر واعظ محمد یوسف صاحب (۲) میر واعظ احمد اللہ صاحب ہمدانی (۳) سعد الدین صاحب شال (۴) سید حسین شاہ صاحب جلالی