تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 513 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 513

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 501 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۶ کالم ۲۱- - الفضل ۱۰/ تمبر ۱۹۳۱ء صفحہ اکالم ۲- ڈاکٹر محمد عالم صاحب کا نگریس کے اہم مسلمان ممبر تھے۔اپنے وعدہ کے مطابق انہوں نے کانگریسی لیڈروں کی حمایت حاصل کرنے کی جدوجہد کی۔لیکن ان کی کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کانگریس سے بد تمکن ہو گئے۔اور کانگریسں چھوڑ گئے اور بعد میں مسلمانوں کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے لئے کھڑے ہوئے۔-۸۹ بحوالہ مسئلہ کشمیر اور ہندو مہاسبھائی (مولفہ جناب ملک فضل حسین صاحب) صفحه ۹۴-۹۵ طبع اول ستمبر ۶۳۲ حد یہ ہے کہ مولوی ظفر علی خان صاحب کے اخبار زمیندار نے لفظ لفظ ملاپ کی تائید میں یہ بیان دیا کہ بظاہر ریاست میں امن کے آثار نظر آرہے تھے لیکن مصیبت یہ آپڑی کہ کشمیر کے فلاکت زدہ مسلمانوں کو روپیہ کی ضرورت تھی وہ روپیہ نہ انہیں جمعیت احرار دے سکتی تھی نہ کوئی دوسرا مسلمان، خلیفہ جی نے بات بگڑی دیکھ کر پرانی ہمسائیوں کا منہ کھول دیا اور ہزار ہا ر ہے کشمیری مسلمانوں کے پاس پہنچا دیئے اس طرح وہ آگ جسے مہاراجہ سرہری سنگھ کی آشتی پسندی اور سرسید مرشاہ اور مسلمانان کشمیر کے دوسرے مخلص ہو ردوں نے بجھائی تھی پھر بھڑک اٹھی۔زمیندار ۲۷ نومبر ۱۹۳۱ء) حوالہ الفضل ۳/ نومبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۳ کالم ملاپ کی ہمنوائی کا پس منظر کیا تھا اس پر حضرت ظفر الملت کے مندرجہ ذیل اشعار جو آپ نے مہاراجہ کشمیر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے تھے۔- اے جواں سال مہاراجہ کہ نام کشمیر اے کہ آراستہ ہے نامہ عظمت تیرا ہے کہیں میری تمنا که تشکر کی زباں گونجتی ہے ترے اخلاق کے افسانوں سے بخت و دولت کے چمکتے ہوئے عنوانوں سے نہ کبھی کبھی عہدہ برآ ہو تیرے احسانوں سے چمن کے لایا ہوں میں اخلاص و صداقت کے یہ پھول تیرے ہی لطف و نوازش کے گلستانوں سے زمیندار ۲۹/ اکتوبر۱۹۳۷ء صفحه ایحواله ظفر علی خان کی گرفتاری صفحه ۴۴ از حبیب الرحمن کابلی شائع کردہ ریفارم لیگ اسلام گلی ومن پورہ لاہور مطبوعہ مارچ ۱۹۳۷ء) الله بحوالہ مسئلہ کشمیر اور ہندو مہاسبھائی صفحہ ۸۶ تا ۱۹ بحوالہ مسئلہ کشمیری ہندو مہاسبھائی صفحه ۱۲۰ ۹۳ مجلس احرار اسلام ہند نے ان دنوں کشمیر میں وسیع پیمانے پر سینکٹروں مسلمان رضا کار حدود کشمیر میں بھجوائے تھے یہاں اسی طبقہ بندی کی طرف اشارہ ہے۔اس اقدام سے تحریک آزادی کشمیر پر کیا اثر پڑا اس کا اندازہ اخبار سیاست کے مندرجہ ذیل اقتباسات سے باآسانی لگ سکتا ہے۔اخبار "سیاست ۳۴- ستمبر ۱۹۳۲ ء نے لکھا۔اس جماعت احرار نے اہل الرائے مسلمانوں کے مشورہ کے خلاف کشمیر کو جتنے روانہ کئے جو آخر کار ناکام ہو کر مت مرحومہ کی ذلت ورسوائی کا باعث ہوئے۔پھر لکھا۔جتھے ہازی بے سود اور مضرت رساں ثابت ہوئی اس سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان پہنچا احرار کی جانب سے مسلمابین خطہ کو کوئی مالی امداد بھی نہ ملی ان کے جارحانہ اقدام کے باعث حکومت پنجاب وہند بھی برگشتہ ہو گئی۔(سیاست یکم مارچ ۱۹۳۲ء) یہ تو ہندوستان کے مسلم پریس کی رائے تھی۔کشمیری مسلمانوں کا رد عمل بہت زیادہ شدید تھا چنانچہ کشمیری نمائندگان کے سیکرٹری مفتی جلال الدین صاحب نے اعلان کیا کہ میں بعد تأسف احرار کی سرگرمیوں کی مذمت پر مجبور ہوں۔کیونکہ ان گمراہوں کے بے جاجوش و خروش نے ہماری زندگیوں کو تباہ و برباد کر کے عظیم الشان مصائب میں جتلا کر دیا۔(سیاست ۲۴/ نومبر ۱۹۳۲ء) یه وفد جیسا کہ تار سے واضح ہے ۱۸ ستمبر ۱۹۳۱ء کو سرینگر پہنچا مگر کسی خاص مصلحت سے چوہدری افضل حق صاحب نے تاریخ احرار کے صفحہ ۴۳ میں داخلہ کشمیر کا مہینہ اکتوبر ۱۹۳۱ء لکھ دیا ہے مگر صفحہ ۴۷ سے اصل حقیقت بالکل نمایاں ہو گئی ہے کیونکہ لکھا ک نمایاں ہوگئی ہے کہ تمبر ۱۹۳۱ء میں مکلیگن کالج سٹرائیک کے ہنگامہ کی اطلاع ہمیں سرینگر میں ملی تھی۔۹۵- تاریخ احرار صفحه ۴۵-۴۶