تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 490 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 490

تاریخ احمدیت جلد ۵ 478 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به بے عزتی کریں گے۔تو کشمیری پنڈت ہم کو طعنہ نہ دیں گے ؟ کہ ہم جو کہہ رہے تھے کہ محمد عبد اللہ تم کو دھوکہ دے جائے گا۔کیا وہ درست نہ نکلا؟ میں نے ہر ایک کو اطمینان دینے کی کوشش کی اور جس جس سے میری گفتگو ہوئی۔وہ تسلی کے ساتھ واپس گیا۔شہر کے ہر ایک حصہ میں نمائندوں کے خلاف غیظ و غضب نظر آتا تھا۔اور یہی ہر ایک کہتا تھا کہ کل ہم ان نمائندوں کو بے عزت کریں گے۔اور سیج پر نہیں آنے دیں گے"۔جب حالات اس نہج تک آپہنچے تو شیر کشمیر جناب شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے ان سے کہا کہ آپ لوگ پریذیڈنٹ صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے پوچھ لیں اگر وہ ہمارے اس عارضی صلح نامہ کو ایسا ہی خطرناک قرار دیں تو آپ لوگوں کی جو مرضی ہو کریں ورنہ آپ ان کے مشورہ کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھا ئیں۔چنانچہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور دوسرے کشمیری زعماء کی طرف سے معاملہ صدر صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو بھجوایا گیا۔جس پر صدر کشمیر کمیٹی (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے "ریاست کشمیر و مسلم نمائندگان کے درمیان شرائط صلح پر ایک نظر" کے عنوان سے کہ میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں صلح نامہ کے خطرناک نقائص کی نشاندہی کرنے کے بعد تحریر فرمایا۔مسلمانوں کے نمائندوں نے یہ معاہدہ کیا ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کی پوری طرح اتباع کریں کیونکہ مسلمان دھوکہ باز نہیں ہوتا۔اور جو قوم اپنے لیڈر کی خود تذلیل کرتی ہے۔وہ کبھی عزت نہیں پاتی۔نیز مسلمانوں میں قحط الرجال ہے۔اور کام کرنے کے قابل آدمی تھوڑے ہیں پس انہی سے کام لیا جا سکتا ہے اور لینا چاہئے۔پس یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اس مضمون کو پڑھ کر کوئی جو شیلا شخص جموں اور کشمیر کے لیڈروں کی مخالفت شروع کر دے۔انہوں نے دیانتداری سے کام کیا ہے اور ہمیں ان کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہیئے۔اور ہنستے ہوئے ان کی غلطی کو قبول کرنا چاہئے پھر اس کے ضرر سے بچنے کا بہترین طریق سوچنا چاہئے۔وہ طریق میرے نزدیک یہ ہے کہ وقت کے تعین سے اس معاہدہ کے ضرر کو محدود کر دیا جائے اور آئندہ کے لئے اپنے آپ کو آزاد کرا لیا جائے۔میرے نزدیک اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ دستخط کرنے والے نمائندگان ریاست کو ایک دوسری یادداشت یہ بھجوا دیں کہ چونکہ عارضی صلح کا وقت کوئی مقرر نہیں اور یہ اصول کے خلاف ہے اس فرد گذاشت کا علاج ہونا چاہئے۔پس ہم لوگ یہ تحریر کرتے ہیں کہ ایک ماہ تک اس کی میعاد ہوگی۔اگر ایک ماہ کے اندر مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ریاست نے کوئی فیصلہ کر دیا یا کم سے کم جس طرح انگریزی حکومت نے ہندوستان کے حقوق کے متعلق ایک اصولی اعلان کر دیا ہے کوئی قابل تسلی اعلان کر دیا تب اس عارضی صلح کا زمانہ یا لمبا کر دیا جائے گا یا