تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 489 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 489

تاریخ احمدیت۔جلده 477 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سے ہماری ۵/ اگست ۱۹۳۱ء کی عرضداشت کا جواب اطمینان بخش نہیں۔ہم اس کا احترام کرتے ہیں اور ہز ہائیس سے وفاداری کی وجہ سے مشروط صلح کے لئے تیار ہیں۔اس کے مقابل حکومت نے وعدہ کیا کہ (۱) قصبات اور دیہات میں مسلمان رہنماؤں کی طرف سے اس اعلان عام کے بعد کہ ایجی ٹیشن بند کر دی گئی ہے۔وہ ان تمام ذرائع کو ترک کر دے گی جو گزشتہ دو ماہ سے اس کی طرف سے اختیار کئے گئے ہیں۔(۲) وہ ملزم جن کا فسادات کے الزام میں عدالت میں چالان کیا جا چکا ہے ضمانت پر رہا کر دیئے جائیں گے۔اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ شائع ہونے تک ان کے مقدمات کی سماعت ملتوی رہے گی۔(۳) ان سرکاری ملازمین کے متعلق جنہیں ایجی ٹیشن میں حصہ لینے کے الزام میں موقوف ، معطل یا تنزل کر دیا گیا ہے۔اس وعدہ پر کہ وہ آئندہ ایسی باتوں میں حصہ نہیں لیں گے ان کے معالمہ میں دوبارہ غور کیا جائے گا۔اور انہیں پھر وہی حقوق دیئے جائیں گے"۔Ar اس معاہدہ کا اعلان جامع مسجد سرینگر میں ۲۸/ اگست ۱۹۳۱ء کو جمعہ کے اجتماع میں کیا گیا اور غیور مسلمانوں میں شدید نفرت کی ہر پیدا ہو گئی۔حتی کہ پبلک نے خود شیخ محمد عبد اللہ صاحب پر حملہ کر دیا۔جو ہری کشن کول وزیر اعظم کشمیر کی تمنائے دلی کے عین مطابق تھا۔کیونکہ وہ مسلمانوں کے معزز لیڈروں کو شروع سے محض آوارہ مزاج نوجوان کہہ کر سب و شتم کرتے آرہے تھے۔اس درد انگیز حادثہ کی تفصیلات ہدایت اللہ صاحب (یعنی چوہدری عصمت اللہ صاحب ایڈووکیٹ نے ۲۹/ اگست ۱۹۳۱ء کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں درج ذیل الفاظ میں " بھیجوائیں۔یہ صلح یا عارضی صلح ایک عجیب ہیجان پیدا کرنے کا باعث ہوئی ہے۔شہر میں ہر ایک کشمیری حیران اور پریشان نظر آتا تھا۔بعض کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ اس کے متعلق علم ہونے پر رونے لگے۔بعض نے صدمہ کی وجہ سے کھانا نہ کھایا اور زیادہ آپے سے باہر ہونے والے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم دس نمائندوں کو قتل کر دیں گے۔اور اس کے بعد خود بھی خود کشی کرلیں گے یہاں تک تو ہوا کہ بعض نے (شیخ) محمد عبد اللہ کو گریبان سے پکڑا۔اور مارنا چاہا۔بعض نے جبکہ وہ موٹر پر جارہا تھا اس پر پتھر برسائے اور بعض نے فحش گالیاں دیں۔اور ہر ایک نظر آرہا تھا کہ وہ اپنی قسمت کو رو رہا ہے۔اس تمام کیفیت کی وجہ کیا تھی۔وہ صرف یہی تھی کہ شہر میں مشہور ہو گیا کہ اس عارضی صلح میں نمائندوں نے کشمیری مسلمانوں کو فروخت کر دیا ہے۔میرے پاس بھی میرے محلہ میں سے بعض لوگ آئے اور کہنے لگے کہ آج تک تو ہم کشمیری پنڈتوں سے محمد عبد اللہ کے لئے لڑ پڑتے تھے۔لیکن کل اگر ہم ہی سٹیج پر