تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 491
تاریخ احمدیت جلد ۵ 479 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه اسے مستقل صلح کی شکل میں بدل دیا جائے گا۔لیکن اگر ایک ماہ کے عرصہ میں ریاست نے رعایا کو ابتدائی انسانی حقوق نہ دیئے یا ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا۔تو یہ صلح ختم سمجھی جائے گی۔اور دونوں فریق اپنی اپنی جگہ پر آزاد ہوں گے"۔اس اشتہار کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل کشمیر میں عارضی سمجھوتہ کے خلاف جوش دب گیا۔اور ان کو تسلی ہو گئی۔کہ اس کی خرابی کو سنبھال لیا جائے گا۔چنانچہ اس سلسلہ میں ایک تار بھی قادیان پہنچا۔کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت نے عارضی صلح کے شرائط پر جو تبصرہ فرمایا ہے اسے یہاں کی پلک نے بہت پسند کیا ہے"۔اس تبصرہ کا مزید نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانان کشمیر نے فیصلہ کر لیا ہے وہ معاہدہ لمبا نہیں ہونے دیں گے یا حکومت ان کو حقوق دینے کا فیصلہ کرے گی۔یا صلح نامہ ختم کر دیا جائے گا۔